Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 دسمبرتا1 3دسمبر2012ء
Date 2012-12-16 - 2012-12-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 دسمبرتا1 3دسمبر2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم:
-1 کپاس، مکئی اورکماد کے بعد کاشتہ گندم کو پہلا پانی بوائی کے 20تا25دن بعد جبکہ دھان کے بعدکاشتہ گندم کو 30تا40دن بعد لگایا جائے۔
-2 گندم کو ایک بوری یوریا فی ایکٹر پہلے پانی کے ساتھ ڈالیں۔ریتلی زمینوں میں پہلا پانی لگانے کے بعد نائٹروجنی کھاد کا استعمال تروتر میں کریں۔
-3 پہلی آبپاشی کے بعد کھیت وتر حالت میں آنے پر دوہری بارہیرو چلائیں۔خواہ فصل چھٹہ کے ذریعے ہی کیوں نہ کاشت کی گئی ہو۔
-4 جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے کیمیائی زہروں کا استعمال محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق کریں۔
-5 ریتلے، کلراٹھی نیز بارانی علاقوں میں جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے کریں۔
کپاس:
-1 چنائی صبح دس بجے کے بعد شروع کریں اور شام چار بجے بند کردیں۔
-2 چنی ہوئی کپاس خشک جگہ پرترپال یا سوتی چادر پر رکھیں اور ہر قسم کی کپاس کو الگ الگ رکھیں۔
-3 آخری چنائی والی کپاس کا ریشہ کمزور اور بنولہ بھی بیج کے قابل نہیں رہتا لہٰذا اسے دوسری کپاس سے الگ رکھیں۔
-4 کپاس کی مختلف اقسام الگ الگ گوداموں میں رکھیں تاکہ مختلف اقسام کے ریشے اور بیج کی کوالٹی آپس میں مل کر متاثر نہ ہونے پائے۔
-5 کپاس کی آخری چنائی کے بعد کھیت میں بھیڑ بکریاں چھوڑ دیں تاکہ وہ بچے کھچے ٹینڈے وغیرہ کھالیں اور ان میں موجود سنڈیاں خصوصاً گلابی سنڈی وغیرہ تلف ہو جائے۔
-6 کپاس کی آخر ی چنائی کے بعد چھڑیوں کو روٹا ویٹر کی مدد سے کھیت میں دبا دیں۔
کماد:
-1 فصل کی کٹائی سے 20تا25دن قبل پانی دینا بند کردیں۔
-2 فصل کی کٹائی جاری رکھیں۔فصل کی کٹائی سطح زمین سے ایک انچ گہرا کریں۔
-3 فصل کی کٹائی شوگر ملز کی طرف سے پرمٹ /اجازت نامہ ملنے کی صور ت میں کریں۔کٹائی کے بعدزیادہ دیر ہونے کی صورت میں وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
-4 کہر کی صورت میں فصل کوہلکا پانی لگائیں۔
-5 بیج کے لیے بیماریوں سے پاک فصل کا انتخاب کرلیں۔
دالیں:
-1 فصل کی حالت اور موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آبپاش فصل کو دسمبر میں پہلا پانی لگائیں۔
-2 مسور اور چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کا عمل جاری رکھیں۔
-3 چنے کی فصل کوپہلی گوڈی فصل اُگنے کے 30تا40دن بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے ایک ماہ بعد کریں۔
-4 ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری کریں۔
-5 چنے کی فصل پر اگر سنڈی کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے زہر پاشی کریں۔
روغن داراجناس:
سرسوں، توریا، رایااور کینولہ کی اقسام پر اگر تیلہ یا لشکری سنڈی وغیرہ کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت کے عملہ سے مشور ہ کر کے زہر پاشی کریں۔
چارہ جات:
-1 برسیم اور لوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کوہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔
-2 اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اورلوسرن کی کٹائی کے بعد آدھی بوری یوریا فی ایکٹربوقت آبپاشی ڈالیں۔
-3 برسیم کی فصل کو شدید سردی اور کورے کے دنوں میں ہر ہفتہ عشرہ بعد ہلکاسا پانی لگائیں۔
سبزیات:
-1 آبپاشی کا خیال رکھیں۔ گوڈی کریں۔
-2 چھوٹی نازک سبزیوں کو سردی سے بچانے کا بندوبست کریں۔
-3 آلو کی فصل کا معائنہ کرتے رہیں ۔ بیماری یا کیڑے کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے عملے سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا بروقت سپرے کریں۔
-4 بیج کے لیے آلو کی مخصوص فصل کا معائنہ باقاعدگی سے جاری رکھیں۔وائرس سے متاثرہ اور دوسری اقسام کے پودوں کو احتیاط سے اکھاڑ کر ضائع کر دیں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
-1 ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال بذریعہ ڈرپ اریگیشن کریں۔
-2 سپرے کرنے اورکھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیداہوکر نقصان نہ پہنچائے۔
-3 دن کے وقت تقریباً 9بجے صبح سے 4بجے شام تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلارکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہواخارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan)لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کر کے اندرونی درجہ حرارت مناسب رکھاجا سکے نیزکوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15سے30درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔
-4 پودوں کی ترتیب ،کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا خیال رکھیں۔
کچن گارڈننگ:
گھریلوپیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا مشغلہ نہ صرف انسانی صحت کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔اپنے کھیت یا گھر کے باغچہ میں کاشت کی ہوئی سبزیاں زیادہ سستی ، سپرے اور دیگرآلائشوں سے پاک ہوتی ہیں۔ گھروں میں سبزیاں اُگاتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں:۔
-1 چھوٹے پلاٹوں میں ایسی سبزیاں کاشت کی جائیں جو کافی دیر تک پیدوار دیتی ہوں۔مثلا پالک، دھنیا، میتھی وغیرہ۔جبکہ تین سے پانچ مرلہ کے پلاٹ میں ان سبزیوں کے علاوہ گوبھی ، ٹماٹر، گاجر ، شلجم ، مولی اوردیگر سبزیاں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔
-2 سبزیوں کی کاشت کے لیے نہری یا پینے والا پانی استعمال کریں۔
-3 سبزیوں کو پانی دیتے وقت اس بات کا دھیان رکھیں کہ پانی کھیلیوں سے اوپر نہ جائے ورنہ اس سے زمین سخت اور اُگاؤ متاثر ہو گا۔
-4 سبزیوں کے لیے ایسی مناسب جگہ کا استعمال کریں ۔جہاں دھوپ ہو، سایہ دار جگہ پر سبزیوں کا اُگاؤ متاثر ہوگا۔
-5 سبزیوں کی پنیری تیار کرتے وقت زمین کو بھربھرا کر لیں اور اس میں بیج لگا کر اس کو فوارے سے پانی دیں۔
-6 بیل والی سبزیوں کو دیوار کے ساتھ اونچا کر کے باندھیں تاکہ اس میں مناسب ہوا کا گزر ہو۔اس طرح سبزیاں بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں اور زیادہ دیر تک پھل دیتی ہیں۔
باغات:
-1 باغات کو کورے سے بچائیں۔کورے اور سردی سے بچاؤ کے لیے چھوٹے پودوں پر سایہ کریں۔
-2 رات کے وقت باغ یا نرسری میں دھونی دیتے رہیں۔
-3 کورا پڑنے والی راتوں میں باغات کو پانی دیتے رہیں۔
-4 ترشاوہ باغات میں پھل کی برداشت جاری رکھیں۔پھل سے خالی ہونے والے پودوں کی شاخ تراشی کریں۔
-5 گوبر کی گلی سٹری کھاد 40تا50کلوگرام، سنگل سپر فاسفیٹ2.5کلوگرام ، پوٹاشیم سلفیٹ 1کلو گرام اور زنک سلفیٹ200گرام فی پودا ڈالیں اور گوڈی کریں۔
-6 ایک ماہ کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔متوقع کہر کی صورت میں پانی جلدی لگائیں۔
-7 آم کی گدھیڑی کے خلاف آم کے درختوں پر حفاظتی بند لگائیں اور زمینی کنٹرول کریں ۔ پودے کے نیچے زمین پرگوڈی کر کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر پاشی کریں۔