Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم مارچ تا15مارچ 2012ء
Date 2012-03-01 - 2012-03-15
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
1ـ گندم کی جڑی بوٹیوں کے خاتمہ کو نہایت ضروری جانیں اور اگر سپرے کرنے کے بعد بھی کہیں جڑی بوٹیاں رہ گئی ہوں تو ان کی تلفی کی طرف خصوصی توجہ دیں۔
2ـ گندم کو تیسرا پانی بجائی کے 125تا130دن بعد لگائیں ۔ یہ وقت ہوتا ہے سٹے میں دانے بننے اور بھرنے کا۔اگر اس مرحلے پر پانی نہ دیا جائے یا تاخیر سے دیا جائے تو دانے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پیداوار میں کمی واقع ہو جا تی ہے۔
3ـ فصل پر چوہوں کے حملے کی صورت میں ان کی تلفی کے لیے زنک فاسفائیڈ کی گولیاں یا ڈیٹیا گیس کی ٹکیاں استعمال کریں۔ ایک حصہ زنک فاسفائیڈ کو 20حصے آٹے میں ملا کر چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائیں اور چوہوں کے بلوں کے پاس کھیتوں میں رکھ دیں۔ اس سے چوہے تلف ہو جائیں گے یا پھر ڈیٹیا گیس کی ایک ٹکی ایک بل میں رکھ کر بل کو مٹی سے بند کر دیں۔ زہریلی گیس نکل کر چوہے کو بل کے اندر ہی ختم کر دے گی۔
4ـ گندم پر سست تیلے کا حملہ عام طور پر فروری کے آخر میں شرو ع ہو جاتا ہے اور مارچ کے آخر تک شدت اختیار کر جاتا ہے۔ گندم پر سست تیلے کے خلاف زرعی زہریں ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ اس کے بہت برے اثرات ہیں جن میں ماحول کاآلودہ ہونا ،صحت کے مسائل اور مفید کیڑوں کا ختم ہو نا شامل ہے۔
کماد
1ـ کماد کی اچھی پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی میرااوربھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔ اس کو مونجی اورکماد کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
2ـ ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو تلف کیا جائے اس کے بعد 8تا10انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کر لیں۔
3ـ گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کو گہری جوتائی اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 8تا10انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔
4ـ ہمیشہ صحت مند بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا اتنخاب کریں ۔ بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال لیں۔
5ـ لیری(یکسالہ) فصل سے بیج منتخب کریں۔مونڈھی فصل سے بیج نہ لیں۔
6ـ سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہوناچاہیے اس سے دیمک لگنے کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ غلاف اُتارتے وقت آنکھوں کو زخمی نہ ہونے دیں ورنہ اگاؤ کم ہوگا۔
7ـ بیج کو پھپھوندکش زہروں کے محلول میں 3تا5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔
8ـ بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ دو آنکھوں والے 25تا30ہزار یا 100 تا 120 من سمے ڈالنے چاہئیں۔
ترقی داداہ اقسام
1ـ اگیتی اقسام : سی پی ایف243، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242،سی پی 77-400، سی پی 43-33اور سی پی ایف237۔
2ـ درمیانی اقسام : ایس پی ایف213، ایس پی ایف234، ایس پی ایف245، ایس پی ایف246اور سی پی ایف 247-۔
3ـ پچھیتی اقسام : سی او جے84۔
نوٹ: غیر منظور شدہ اورممنوعہ اقسام بی ایف 162، ٹرائیٹان ، سی او ایل 54،سی او 1148 (انڈین قسم)، سی اویل 29، سی او ایل 44، بی ایل4،ایل 116، ایل 118اور ایس پی ایف 238ہرگز کاشت نہ کریں۔معیاری اقسام کو ترجیح دیں کیونکہ آئندہ معیار کی بنیاد پر بہتر قیمت ملنے کی امید ہے۔
4ـ کماد کا وقت کاشت فروری کے پہلے ہفتہ سے مارچ کے وسط تک ہے۔
5- زرخیز زمین کے لیے2189بوری یوریا1+بوری ڈی اے پی اور1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
6ـ اگر زمین درمیانی زرخیز ہے تو188 3بوری یوریا2+ڈی اے پی بوری اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
7ـ کمزور زمین میں کماد کی فصل کے لیے 4بوری یوریا3+بوری ڈی اے پی اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑڈالیں۔
8ـ فاسفورس اور پوٹاش کی کل مقدار بوائی سے قبل سیاڑوں میں ڈال دی جائے جبکہ نائٹروجن اُگاؤ کے بعد تین اقساط میں ڈالیں۔
9ـ زمین کی زرخیزی بحال رکھنے کے لئے کیمیائی کھادوں کے علاوہ تین تا چار ٹرالیاں گوبر کی گلی سڑی کھاد ضرور ڈالیں تاہم یہ کام بوائی سے ایک ماہ پہلے کرنا چاہئے تاکہ گوبر کی کھاد زمین میں اچھی طرح مل جائے۔
کماد کی موڈھی فصل
10ـ آخر جنوری سے شروع مارچ تک موسم موڈھی فصل رکھنے کے لیے بہت مفید ہے۔ اس وقت رکھی گئی موڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے ہیں اور پودے اچھا جاڑ بناتے ہیں۔
11ـ نومبر ، دسمبر اور شروع جنوری کے دوران رکھی گئی موڈھی فصل زیادہ جاڑ نہیں بناتی کیونکہ سردی کی شدت کی وجہ سے مڈھوں میں خفیہ آنکھیں مر جاتی ہیں اور کچھ مڈھ زمین میں پڑے گل جاتے ہیں ۔ گری ہوئی فصل کی موڈھی نہیں رکھنی چاہیے یہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔
12ـ گنا کاٹتے وقت سطح زمین سے ایک ڈیڑھ انچ نیچے یا زمین کے برابر کاٹا جائے ۔ اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔
13ـ کماد کے کھیت میں کیڑوں کے حملے ، بیماری لگنے اور ہل چلاتے ہوئے مڈھ اکھڑنے سے ناغے آ جاتے ہیں۔سردی کی شدت سے بھی مڈھ مر سکتے ہیں۔اس لیے ناغوں کا پُر کرنا بہت ضروری ہے ۔ گنے کے اسی قسم مڈھ لاکر ناغے پُر کریں۔
14ـ موڈھی فصل کی کھاد کی ضرورت لیرا فصل کی نسبت زیاد ہ ہوتی ہے لہٰذا موڈھی فصل کو سفارش کردہ مقدار سے 30فیصد زیادہ کھاد دینی چاہیے۔
15ـ آئندہ موڈھی فصل کی پیش بندی سابقہ فصل کی ظاہر ی صحت ، پودوں کا جاڑ، زمینی ساخت اور زرخیزی کو ذہن میں رکھ کر کرنی چاہیے۔
مکئی(بہاریہ کاشت)
1ـ مکئی کی کاشت کے لئے بھاری میرا زرخیز زمین بہت موزوں ہے۔ ریتلی سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اس کی کاشت کے لئے موزوں نہیں۔
2ـ مکئی کی بہاریہ کاشت کے لئے زمین اچھی طرح تیار کریں بہتر تیاری کے لئے تین تا چار مرتبہ ہل اور سہاگہ دیں کھیت کی ہمواری کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔
3ـ تمام میدانی علاقوں میں بہاریہ مکئی کی بوائی کے لئے موزوں ترین وقت 15 جنوری سے فروری کے آخر تک ہے جبکہ راولپنڈی ڈویژن (ماسوائے پہاڑی علاقے ) آخری فروری تا 20مارچ ہے۔لہٰذا اس دورانیے میں اس کی کاشت کو مکمل کریں۔
4ـ بہاریہ مکئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے سفارش کر دہ ہائبرڈ اقسام کاشت کریں۔
5ـ ڈرل سے کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 12سے 15 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں ۔ وٹوں پر کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 8 تا 10 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
6ـ آبپاش علاقوں میں کمزور زمین کو اڑھائی بوری ڈی اے پی اور ڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت ڈالیں۔
7ـ درمیانی زرخیز زمین میں دو بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔
8ـ بارانی رقبہ جات میں کم بارش والے علاقوں میں ایک بوری ڈی اے پی ، ایک بوری یوریااور آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں جب کہ زیادہ بارش والے علاقوں میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ڈیڑھ بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
9ـ ہائبرڈ اقسام کے لیے کمزور زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی اور دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ درمیانی زمین دو بوری ڈی اے پی اور دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
سورج مکھی
1ـ بہاریہ سورج مکھی کی کاشت اس پندھرواڑے میں مکمل کریں دیر سے بوئی گئی فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے۔
2ـ ایسی زمین جس میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو اور زیادہ ریتلی اور کلراٹھی نہ ہو اس فصل کے لئے موزوں ہے۔
3ـ زمین کو اچھی طرح ہموار کر لینا چاہیے تاکہ آبپاشی میں آسانی ہو ۔ ہموار زمین کو بوائی سے پہلے گہرا ہل چلا کر تیار کریں۔
4ـ فصل کی بوائی کے لئے بیج کی قسم کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ قسم آپ کے علاقہ میں اچھی پیداوار دے سکتی ہے یا کہ نہیں اس سلسلہ میں اپنے علاقہ کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کریں اور ان کی سفارشات کے مطابق قسم کا چناؤ کریں۔
5ـ اچھے اگاؤ کا اڑھائی کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہے اگر اگاؤ کی شرح کم ہو تو بیج کی مقدار اسی حساب سے بڑھا دیں۔
6ـ فصل قطاروں میں کاشت کریں قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو فٹ سے اڑھائی فٹ رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں ایک فٹ رکھیں۔
بہاریہ مونگ
1ـ مونگ کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ سے آخر مارچ تک کی جا سکتی ہے البتہ مارچ کا پہلا پندھرواڑہ اس کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔
2ـ اچھی پیداوار کے حصول کے لیے آبپاش علاقوں میں منظورشدہ اقسام نیاب مونگ 2006- اور ازری مونگ 2006-جبکہ بارانی علاقوں میں چکوالM-6کاشت کریں۔
3ـ شرح بیج 12کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔
4ـ بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے فصل کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
5ـ بجائی ہمیشہ تر وتر حالت میں کریں تاکہ اُگاؤ بہتر ہو ۔ بجائی قطاروں میں کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ رکھیں اور پودوں کاآپس میں درمیانی فاصلہ تین انچ ہونا چاہیے۔
6ـ مونگ کے لیے ایک بوری ڈی اے پی +ایک بوری پوٹاشم سلفیٹ بجائی سے پہلے آخری ہل کے بعد چھٹہ کر کے سہاگہ دیں۔
مونگ پھلی
1ـ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری کریں ۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
2- زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں آخرمارچ تا آخراپریل میں کرنی چاہیے۔
چارہ جات
1ـ برسیم اورلوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کو ہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔
2ـ اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اور لوسرن کی کٹائی کے بعدآدھی بوری یوریا فی ایکڑ بوقت آبپاشی ڈالیں۔
3ـ خریف چارہ جات میں جوار (چری) ، سدابہار، باجرہ، مکئی ، گوارا، رواں، ماٹ گراس ، روڈزگراس، گنی گھاس، کلرگھاس اورجنتر وغیرہ بروقت کاشت کر کے مویشیوں کے لیے چارہ کی کمی کو پورا کریں۔
4ـ خریف چارہ جات مارچ سے اگست تک حسب ضرورت کاشت کیے جاسکتے ہیں۔
5ـ سدا بہار چارہ کی کاشت 15مارچ تک مکمل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ کٹائیاں حاصل ہوں۔
6ـ سدا بہار کو ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر بذریعہ ڈرل لائنوں میں کاشت کریں ۔بیج زیادہ گہرا نہ ڈالیں ورنہ اُگاؤ متاثر ہو گا۔
سبزیات
1ـ موسم سرما کی کاشتہ سبزیات کی آبپاشی کا خیال رکھیں ۔
2ـ موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، کالی توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
3ـ سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھے نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میں ملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔
4ـ بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ۔ کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں اور بیج کی شرح اُگاؤ 80فیصد ے کم نہ ہو۔
5ـ ٹماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کریں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوں جانب کریں۔
باغات
ترشاوہ پھل
1ـ جن پودوں کا پھل برداشت کر لیا گیا ہے ان پودوں کے درمیان احتیاط سے ہل چلائیں تاکہ پودوں کا نقصان نہ ہو۔
2ـ جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لیے سپرے کریں ۔کینواور ویلنشیالیٹ کی برداشت کریں۔
3ـ مختلف اقسام کی ترشاوہ پھلوں کی پیوندکاری کریں۔ گرے ہوئے بیمار پھل زمین میں دبا دیں۔
4ـ باغات اور نرسری کو رس چوسنے والے کیڑوں مثلاً سٹرس سلا، سفید مکھی، پھل کی مکھی اور لیف مائنر کے خلاف سپرے کریں۔پھل کی مکھی کے انسداد کے لیے جنسی پھندے لگائیں۔
آم
1ـ آم کے باغات میں بٹور والے پھولوں کو سبز حالت میں خشک ہونے سے پہلے کاٹ کر تلف کریں ۔
2ـ مکمل پھول آنے پر یوریا کھاد ایک کلوگرام فی پودا ڈالیں۔
3ـ پھل آنے پر آبپاشی اشد ضروری ہے۔ آبپاشی کا وقفہ 20دنوں کا رکھیں جس کاانحصار موسم کی کیفیت پر ہے۔