Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم مئی تاپندرہ مئی 2012ء
Date 2012-05-01 - 2012-05-15
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
3 گندم کی کٹائی موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں اور گندم کے کھلیان اونچی جگہ پر بنائیں۔
3 غیر متوقع موسم میں جنس کو بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے ترپال ،پلاسٹک وغیرہ کی چادروں کا بندوبست کریں۔
3 گندم کی بھریاں چھوٹی رکھیں تاکہ الٹنے پلٹنے میں سہولت ہو ، بھریوں کے سٹوں کا رخ ایک طرف رکھیں اور بارش کی صورت میں ان کو کھڑا کر دیں۔
3 گندم کی تھریشنگ کے وقت خیال رکھیں کہ دانے ٹوٹنے نہ پائیں کیونکہ ٹوٹے ہوئے دانوں پر کیڑوں کا زیادہ حملہ ہوتاہے۔
3 گندم کی کٹائی گہائی کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعے نشر کی جانے والی موسمی پیشن گوئی پر خاص توجہ دیں تاکہ بارش اور آندھی سے پیداوار متاثر نہ ہو۔
3 گندم کو سٹور کرنے کے لیے نئی بوریاں استعمال کریں بصورت دیگر پرانی بوریوں کو سفارش کردہ زہرکے محلول سے ا چھی طرح سپرے کرنے کے بعد خشک کر کے گندم بھر یں۔
3 ذخیرہ کرنے سے قبل گوداموں کو اچھی طرح صاف کریں ۔ سوراخ اوردراڑیں وغیرہ بند کر دیں تاکہ گذشتہ سال کے حملہ شدہ کیڑوں کے انڈے اور بچے تلف ہو جائیں۔پھر محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں یا دھونی دیں۔
3 غلہ گوداموں میں رکھتے وقت اس میں نمی تقریباً 10فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
3 چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں بحساب 35-30 فی ہزارمکعب فٹ استعمال کریں اورگودام بالکل ہوا بند ہونے چاہیں۔
3 اگر جنس کھلی پڑی ہوئی ہو تو اس کو پلاسٹک شیٹ سے اچھی طرح ہوا بند کرکے فیومیگیشن کریں۔
بہاریہ مکئی
3 فصل کو حسب ضرورت مناسب وقفے سے آبپاشی کریں بورآنے پر کسی صورت میں بھی پانی کی کمی نہ آنے دیں اور کھیت کو ہمیشہ تروتر حالت میں رکھیں تاکہ دانے بننے میں مدد ملے لیکن پانی کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔
3 آبپاش علاقوں میں بقیہ تین اقساط میں ڈالی جانے والی نائٹروجن پودوں کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ ہونے، اڑھائی سے تین فٹ ہونے اور پھر پھول آنے سے قبل سفارش کردہ مقدار کے مطابق ضرور استعمال کریں۔
3 زنک کی کمی کی صورت میں 21فیصد زنک سلفیٹ 10کلوگرام یا 33فیصد زنک سلفیٹ 5کلوگرام فی ایکڑ ضرور ڈالیں۔
کماد
3 فصل کو گوڈی کریں اس سے جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جاتی ہیں اور زمین نرم ہونے سے فصل کی جڑیں خوب پھیلتی ہیں۔
3 کماد کی بھرپور فصل کے لیے فروری کاشت کو فی ایکڑ 64انچ اور ستمبر کاشتہ فصل کے لیے 80انچ پانی درکار ہوتا ہے۔ پانی کی کمی فی ایکڑ پیداوار پر بُرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا 10سے12دن کے وقفہ سے آبپاشی جاری رکھیں۔
3 جڑ اور تنے کے گڑوویں کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب دانہ دار زہریں کونپلوں میں ڈال کر پانی لگا دیں۔
دھان
3 دھان کی پنیری 20مئی سے پہلے ہرگز کاشت نہ کریں کیونکہ دھان کے تنے کی سنڈیاں موسم سرما مڈھوں میں سرمائی نیند سو کر گزارتی ہیں۔تنے کی سنڈیوں کے پروانے درجہ حرارت بڑھ جانے سے زیادہ تر مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں نکلتے ہیں اگر اس دوران دھان کی پنیری کاشت کی گئی ہو تو پروانے ان پر انڈے دے کر اپنی نسل کا آغاز کر دیتے ہیں ۔لہٰذا کاشتکار 20مئی سے پہلے دھان کی پنیری ہرگز کاشت نہ کریں۔
3 دھان کی کاشت کے لیے ترقی دادہ اور منظور شدہ اقسام کے ایس ,282نیاب اری 9،اری 6،کے ایسکے133،سپر باسمتی، باسمتی515-،باسمتی385،باسمتی2000،باسمتی370،شا ہین باسمتی،باسمتی پاک (کرنل باسمتی)اورباسمتی 198کے بیج کا انتظام کریں۔
3 غیر موزوں اقسام مثلاً باسمتی 386-، سپر فائن ، کشمیرا، مالٹا، ہیرو، سپرا اور اس طرح کی دیگر اقسام ہرگز کاشت نہ کریں۔ کیونکہ ان کے چاول کا معیار ناقص ہوتاہے۔ اس اقسام کی ملاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں باسمتی چاول کی قیمت کم وصول ہوتی ہے۔
کپاس
3 کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری اس طرح کی جائے کہ کھیت ہموار، زمین نرم اور بھربھری ہو۔
3 کپاس کی منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
بی ٹی اقسام:
3 کپا س کی بی ٹی اقسام علی اکبر 703-(یکم مارچ تا 15اپریل)، نیلم 121-(یکم مارچ تا 30اپریل)، ٹارزن1-،ایم این ایچ886-، این ایس141-، ایف ایچ 114-، آئی آر3-، سی آئی ایم 598-،ستارہ 009-، ستارہ008- اوراے ون(یکم مارچ تا 15مئی)، ایم جی 6- (یکم اپریل تا 15مئی)، آئی ار 3701-،علی اکبر 802-، جی این ہائبرڈ 2085-اور آئی ار1524- (15اپریل سے 15مئی ) تک کاشت کریں۔ بی ٹی اقسام کا انتخاب علاقے کی موزونیت، مقامی معلومات اور پچھلے سالوں کے تجربات کی روشنی میں کریں۔
33 بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
3 شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
3 اگیتی کاشت کے لیے 161کلو گرام نائٹروجن، 46تا70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فارسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ڈالیں۔
روایتی اقسام:
3 محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام سی آئی ایم 496-، سی آئی ایم506-، سی آئی ایم 554-، سی آئی ایم 573-، ایم این ایچ786-، سی آر ایس ایم38-، السیمی ایچ 151-،بی ایچ 167-، نبجی 115-، ایف ایچ 942-، نیاب 852-اور ایس ایل ایچ317- میں سے موزوں اقسام کا انتخاب کریں۔
3 مرکزی علاقہ جات میں کپاس کو 58تا69کلوگرام نائٹروجن ، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں جبکہ ثانوی علاقوں میں کپاس کو46تا 58کلوگرام نائٹروجن، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرا م پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس او رپوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور نائٹروجن کی مقدار کا 1/3حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
بہاریہ مونگ
3 بہاریہ مونگ کو تین تا چار دفعہ آبپاشی درکار ہوتی ہے۔ پہلا پانی اُگاؤ کے تین تا چار ہفتہ بعد دوسرا پانی پھول نکلنے پر اور تیسرا پانی حسب ضرورت دو ہفتہ کے وقفہ سے پھلیاں بننے اور پھلیوں میں دانہ بننے پر دیں۔
سبزیات
3 موسم گرما کی سبزیوں کی گوڈی کریں جہاں ضرورت ہو تنوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں اور 10-8دن کے وقفے سے آبپاشی کریں۔
آم کے باغات
3 آم کے باغات کو 14-12دن کے وقفے سے آبپاشی کریں ۔پھل کی مکھی کے انسداد کے لیے پھندے لگائیں ۔ چار پھندے فی ایکٹر کافی ہوتے ہیں۔اگر پھندوں میں پھل کی مکھیوں کی تعداد زیادہ ہو تو پھل کی مکھی کے خلاف محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔
ترشاوہ باغات
3 چونکہ اس دورانیہ میں پھل کی بڑھوتری شروع ہو جاتی ہے اس لیے ترشاوہ باغات کو پندرہ دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
3 33 پودوں کے تنوں پر پیوند سے نیچے پھوٹ اور کچے گلوں کی کٹائی کریں ۔
3 جڑی بوٹیوں کا تدارک بذریعہ ہل یا سپرے کریں۔

خخخ