Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم جون تا15 جون 2012ء
Date 2012-06-01 - 2012-06-15
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس
3 چھدرائی کا عمل بوائی کے بعد 25-20دن کے اندر یا پہلے پانی سے قبل یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ مکمل کیا جائے۔
3 بی ٹی اقسام میں اگیتی کاشتہ فصل(مارچ) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 12تا15انچ، درمیانی کاشتہ فصل (اپریل) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9تا12انچ اور پچھیتی کاشتہ فصل (یکم مئی تا 15مئی) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6تا9انچ رکھیں۔
3 روایتی اقسام میں مرکزی علاقہ جات میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھا جائے۔ ثانوی علاقہ جات میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9سے 12انچ ہونی چاہیے۔
3 بی ٹی اقسام اگر لائنوں میں کاشت کی ہے تو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 2تا3دن بعد اور بقیہ 6تا9دن کے وقفہ سے لگائیں۔ آخری پانی 15اکتوبر تک لگائیں۔پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔
3 ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی روایتیکپاس کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد اس کے بعد ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے دیں ۔ آخری آبپاشی 30ستمبر تک مکمل کرلیں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 6تا9 دن بعدآبپاشی کریں ۔ آخری آبپاشی 10اکتوبر تک مکمل کریں۔
3 بی ٹی اقسام کے لیے بوائی کے بعد نائٹروجن کھاد کا 1/6حصہ 30تا 35دن بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن کھاد ایک پانی چھوڑ کر اگلے پانی پر دالتے جائیں
3 روایتی اقسام کے لیے بوائی کے بعد نائٹروجن کھاد کا بقیہ 1/3حصہ پہلے پانی کے ساتھ (ڈوڈیاں بننے پر) اور باقی ماندہ نائٹروجن دوسرے پانی کے ساتھ(پھول شروع ہونے پر) استعمال کریں۔
3 کھیتوں میں اور اردگرد پائی جانے والے سفید مکھی، ملی بگ اور لیف کرل وائرس کے میزبان پودوں کا کام دینے والی جڑی بوٹیاں بروقت تلف کریں۔
3 جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لیے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں ۔
3 فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں اگر کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد سے زیادہ ہو تو پھر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہر استعمال کریں۔
دھان
دھان کی منظور شدہ اقسام کاشت کریں۔
موٹی اقسام
اری6، کے ایس282،کے ایس کے133اور نیاب اری9۔
باسمتی اقسام
سپرباسمتی،باسمتی385، باسمتی370، باسمتی 2000،شاہین باسمتی،باسمتی پاک، باسمتی 198اور باسمتی515-۔
3 باسمتی370، باسمتی385، باسمتی پاک،کے ایس کے515- اور باستمی2000کی پنیری یکم جون تا 30جون تک کاشت کریں۔
3 شاہین باسمتی کی پنیری15جون تا 30 جون تک کاشت کریں۔
3 باسمتی198(ساہیوال،اوکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کیلئے منظور شدہ) یکم جون تا15جون تک کاشت کریں۔
3 ممنوعہ اقسام386، سپر فائن، کشمیرا، مالٹا، ہیرو اور سپرا ہرگزکاشت نہ کریں۔ کیونکہ ان کے چاول کا معیار ناقص ہے۔ان اقسام کی ملاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں باسمتی کم قیمت پر فروخت ہوتی ہے۔
3 پنیری کی کاشت سے قبل بیج کو پھپھوند کش زہر محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے بحساب دو تا اڑھائی گرام فی کلو گرام بیج لگائیں تاکہ دھان کی فصل کو بکائنی اور پتوں کے بھورے دھبے جیسی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
3 دھان کی پنیری میں زہر پاشی دوبار کی جائے پہلی بار آٹھ تا دس دن کی پینری پر دھوڑا یا سپرے کی شکل میں اور دوسری مرتبہ پندرہ تا بیس دن کی پنیری پر دانے دار زہروں کا استعمال زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے کریں۔
3 اگر پنیری کمزور نظر آئے تو یوریا 1/4کلوگرام فی مرلہ کے حساب سے پنیری کی منتقلی سے د س دن پہلے ڈالیں۔
3 نرسری کیلئے کھیت کی تیاری کے دوران35فیصد والا زنک سلفیٹ24کلوگرام فی ایکڑ ڈالیں۔
3 زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے پنجاب سیڈ کارپوریشن کا تصدیق شدہ بیج اس کے قائم کردہ مراکز اور مقررہ ڈیلروں سے حاصل کریں۔
کماد
3 کماد کے گڑوؤں کے تدارک کیلئے زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے دانے دار زہروں کا استعمال کر کے کھیت کو پانی لگا دیں۔
3 فصل کو 10تا12دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں نیز فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
3 بیما ری کاحملہ ہونے کی صورت میں زہروں کا استعمال زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے کر یں۔
3 پانی کی کمی صورت میں ایک کھیلی چھور کر آبپاشی کریں اور اگلے پانی پر صرف چھوڑی ہوئی کھیلیوں کو پانی لگائیں۔
3 بہاریہ کمادکونا ئٹروجن کی آخری قسط(تیسری خوراک)جون کے آخر تک ڈال دیں اگر کھاد دیر سے ڈالی گئی تو برسات شروع ہو نے پر فصل بڑھوتری اور پھوٹ کرئے گی جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے اورگری ہوئی فصل کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
3 مو نڈھی فصل کو نئی فصل کی نسبت 30فیصد کھا دزیا دہ ڈالیں۔
گوارا (Legume Crop)
3 گوارا موسم خریف کی اہم پھلی دار فصل ہے۔ یہ فصل پھلی دار خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نائٹروجن کھاد کی ضرورت نہ صرف خود پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کو اگر ہل چلا کر زمین میں دبا دیا جائے تو یہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتاہے ۔ اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے ۔ پنجاب میں گوارا کی کاشت زیادہ تر میانوالی، بھکر، جھنگ، لیہ اور بہاولپور وغیرہ میں ہوتی ہے۔
3 اس کی کاشت کے لیے گرم آب وہوا درکارہوتی ہے۔ یہ فصل پانی کی کمی کو کافی دیر تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔منظور شدہ اقسام بی آر 90- اور بی آر99-کاشت کریں۔
3 چارہ کے لیے20تا25کلوگرام اور بیج والی فصل کے لیے 12تا15 کلو گرام فی ایکڑ بیج استعمال کریں ۔
3 چارے کے لیے یہ فصل اپریل سے جولائی تک کسی بھی وقت کاشت کی جاسکتی ہے۔ البتہ بیج والی فصل کا موزوں وقت کاشت جولائی کا مہینہ ہے۔ اس کو سبز کھاد کے طور پر استعمال کرنے کے لیے فصل کی کاشت ماہ مئی میں کرنی چاہیے ۔
3 گوارا چونکہ ایک پھلی دار فصل ہے اس لیے اس کو زیادہ کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتہ اگر بوقت کاشت ایک بوری ڈی اے پی اور پھول بنتے وقت آدھی بوری یوریا فی ایکڑ ڈال لی جائے تو اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

نامیاتی کاشتکاری(Organic Farming) :
آرگینک فارمنگ ایسا طریقہ کاشتکاری ہے جس میں مصنوعی کیمیائی کھادیں، زرعی زہروں اور دوسرے کیمیائی مادوں کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا۔ اس طریقہ کاشت میں زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے کے لیے فصلوں کا ادل بدل ، فصلات کی باقیات، گوبر کی کھاد پریس مڈھ اور سبز کھادوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔خالص اور عمدہ خوراک کے حصول کے لیے آرگینک فارمنگ کا طریقہ دنیا بھر میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔ اس طریقہ کاشتکاری سے حاصل ہونے والی خوراک کیمیائی اثرات سے پاک ہوتی ہے اور قدرت کے قریب ہوتی ہے۔مقامی اور عالمی منڈی میں ایسی اجناس اور سبزیات کی قیمت عام فصلات سے کئی گنازیادہ ملتی ہے۔ اس لیے اس طریقہ کاشتکاری کو اپنا کر زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔کیمیائی کاشتکاری کو نامیاتی کاشتکاری میں تبدیل کرنے کے لیے تین سال کا عرصہ درکار ہے۔ ابتدائی 3سے4سال میں نامیاتی کاشتکاری کی پیداوار غیر نامیاتی کاشتکار ی سے کم ہوتی ہے لیکن بتدریج ان فصلات کی پیداوار بہتر ہوتی ہے ۔ آرگینک فارمنگ اپناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے آرگینک فارم میں متصل کھیتوں سے کوئی کیمیائی مادے جذب نہ ہورہے ہوں۔
باغات
3 ترشادہ باغات کو 10 تا15دن کے وقفے سے آبپاشی کریں۔
3 آم کے باغات کو12تا14دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
3 گرئے ہوئے پھل کو جمع کرکے زمین میں دبا دیں۔کیڑوں کے حملہ کا جائزہ لیتے رہیں اور پھل اتارنے کا عمل مکمل ہونے تک پھل کی مکھی کے انسداد کی تدابیر جاری رکھیں۔اگر پھندوں میں مکھی کی تعداد زیادہ ہو تو ٹرا ئی کلوروفاس80فیصد بحساب 2کلو گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
سبزیات
3 موسم گرما کی سبزیات کو8تا10دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
3 مزید براہِ راست مختلف فصلات کی ٹیکنالوجی کے سلسلہ میں معلومات حاصل کرنے کیلئے گاؤں کی سطح پر تربیتی پروگرام میں شرکت کریں اور فوری طور پر آگاہی کیلئے زرعی ہیلپ لائن 0800-15000 اور 0800-19000 پر صبح 8 بجے تا شام 8 بجے تک رابطہ کریں۔

***