Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم ستمبر تا15ستمبر2012ء
Date 2012-09-01 - 2012-09-15
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
-1 ستمبرکامہینہ کپاس کی فصل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ موسمی حالات پر نگاہ رکھیں۔ اس کے مطابق آبپاشی اوردوسرے امور سرانجام دیں۔ بارش کی صورت میں اگر زائد پانی کھیت میں کھڑا ہو جائے تو اس کی نکاسی کا بندوبست کریں۔
-2 ستمبر میں رس چوسنے والے کیڑے مثلاً چست تیلہ، سست تیلہ، سفید مکھی اور تھرپس تیز ی سے افزائش نسل کرتے ہیں اور رس چوس کر فصل کو کمزور کر دیتے ہیں۔ ستمبر میں ان کے ساتھ ہی سنڈیوں کا حملہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کی ہدایات کے مطابق ایسی زرعی ادویات استعمال کریں جو ان دونوں قسم کے کیڑوں کو تلف کر دیں۔لیکن ان کے استعمال سے پہلے پیسٹ سکاؤٹنگ کے ذریعے معاشی حد نقصان معلوم کرنا انتہائی ضروری ہے۔
-3 امسال وائرس کا حملہ مشاہدے میں آیا ہے ۔ کاشتکاربھائیوں سے گزارش ہے کہ درج ذیل سفارشات پر عمل کر کے وائرس کے ممکنہ حملے سے فصل کپاس کو بچائیں۔
(i) کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں بڑھی ہوئی فصل میں جڑ ی بوٹیوں کی تلفی کے لیے گلائفوسیٹ(Glyphosate)کا سپرے محکمہ زراعت توسیع کے مشورہ سے کریں۔
(ii) کپاس کے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً سفید مکھی کو کنٹرول کریں۔
(iii) متاثرہ فصل کے لیے کھاد اور پانی کے استعمال پر خصوصی توجہ دیں۔فصل کو ہلکی آبپاشی مناسب وقفہ سے جاری رکھیں۔
(iv) فصل کو سفارش کردہ کھادوں کی مقدار دینے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہو تو 2فیصد یوریاصرف ایک دفعہ یا 2فیصد پوٹاشیم نائٹریٹ (13-0-45) 100لٹر میں کم از کم تین سپرے ہفتہ کے وقفہ سے یا اس کے علاوہ کسی مستندمائیکرونیوٹری اینٹ کا سپرے کریں۔
-4 بارش/سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کھیتوں میں کھڑے پانی کو نکالنے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے لیے کھیتوں کے اردگرد چھوٹے تالاب یا کھالیاں بنائیں۔
-5 جہاں فصل پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے کمزور حالت میں ہے وہاں فصل پر گروتھ پروموٹر سپرے کریں۔
دھان:
-1 اگر پتوں پر سیاہی مائل بھورے دھبے نظر آئیں جو بعد میں زنگ آلود دکھائی دیں تو یہ زنک کی کمی کی علامت ہے۔ ایسی صورت میں منتقلی کے 30دن بعد سوکا کریں۔ زیادہ کمی کی صورت میں 5کلوگرام زنک سلفیٹ (33فیصد)کاکھڑے پانی میں چھٹہ دیں۔
-2 اگر کھیت میں پتہ لپیٹ اورتنے کی سنڈی کا حملہ نظر آئے تو پیسٹ سکاؤٹنگ کے بعد اس کی معاشی حد نقصان کو مدنظر رکھ کر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زرعی ادویات کا استعمال کریں۔
-3 بکائنی کا حملہ نظر آئے تو متاثرہ پودوں کو فوراً نکال کر تلف کریں۔
-4 دھان کے بھبکا سے بچاؤ کے لیے گوبھ سے لیکر دانہ بننے تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں۔
کماد:
-1 کانگیاری سے متاثرہ پودے نکال کر زمین میں دبا دیں۔ جن کھیتوں میں کانگیاری اور رتہ روگ کا حملہ ہو تو ان کو مونڈھی فصل کے لیے نہ رکھیں اور نہ ہی اس کا بیج آئندہ فصل کے لیے رکھیں اور نہ ہی وھاں آئندہ سال کماد کاشت کیا جائے۔
-2 چار چار پودوں کو آپس میں ملا کر باندھ دیا جائے تا کہ خراب موسم میں فصل نہ گرے۔
-3 ستمبر کاشت کے لیے زمین کو اچھی طرح تیا ر کریں۔ نیز محکمہ کی سفارش کردہ اقسام کاشت کریں۔
اگیتی تیارہونے والی اقسام:
سی پی77-400،سی پی 43-33، سی پی ایف 237-، ایچ ایس ایف240-، ایچ ایس ایف242- اورسی پی ایف243۔
درمیانی تیارہونے والی اقسام:
ایس پی ایف 213-، ایس پی ایف234-، ایس پی ایف245-،ایس پی ایف 247-،سی پی ایف 246-۔
نوٹ: ایس پی ایف 234- صرف راجن پور ، بہاولپور اور رحیم یار خاں کے اضلاع کے لیے موزوں ترین قسم ہے۔
پچھیتی تیارہونے والی اقسام:
سی او جے84-
مکئی:
-1 پودوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں تاکہ فصل گرنے سے محفوظ رہے۔
-2 کھاد کی دوسری قسط بحساب 3/4بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔
-3 موسمی حالات کے مطابق ہر سات دن بعد پانی لگائیں۔
-4 فصل سے جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
-5 تنے کی سنڈی کے حملہ کی صورت میں دانے دار زہروں کو کونپلوں میں ڈالیں اور پانی لگا دیں۔
سبزیات:
-1 سرخ مرچ کی برداشت جاری رکھیں۔
-2 بیج کے لیے اگیتی، تندرست اور خوشنما مرچ کا انتخاب کریں۔برداشت کردہ مرچوں کو ڈھیر کی شکل میں نہ رکھیں۔
3۔ مولی، گاجر اور شلجم کی اگیتی فصل کاشت کریں۔مولی، شلجم اور گاجر کا بیج بالترتیب 4،1اور 5کلو گرام فی ایکٹر کے حساب سے استعمال کریں۔
-5 مولی ، شلجم کو کھیلیوں میں کاشت کریں۔ کھیلیوں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں،بے موسمی سبزیات کی کاشت کے لیے محکمہ زراعت سے ٹنل ٹیکنالوجی بارے مشورہ کریں۔
باغات:
آم :
-1 پچھیتی اقسام کی برداشت جاری رکھیں۔
-2 شاخ تراشی کریں۔ نئے پودے لگائیں اور ناغے پر کریں۔
-3 ستمبر میں ایک آبپاشی ضرور کریں۔ جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔
-4 تیلہ اور سکیلز کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کریں ۔چھال کی بیماری اور منہ سٹری کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب زہروں کا سپرے کریں۔
ترشاوہ پھل :
-1 اس موسم میں پھل کی بڑھوتری کا عمل جاری رہتا ہے او ر نئے شگوفے نکلتے ہیں ۔ یوریا کھاد کی تیسری قسط اگر نہ ڈالی گئی ہوتوماہ ستمبر میں ڈال دیں۔
-2 میٹھے کو 1کلویوریا فی پودا ڈالیں۔
-3 آبپاشی کا وقفہ پندرہ دن رکھیں۔
-4 کیڑوں اور بیماریوں کو معائنہ کرنے کے بعد محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب تدارک کیا جائے۔
-5 کچے گُلے ختم کریں۔ پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں۔ نئے پودے لگانے سے پہلے کھیت کے اوپر کی مٹی، بھل اورگوبر کی گلی سڑی کھاد سب برابر مقدار میں ڈال کر بھر دیں اور پانی لگا کر ہموار کریں۔
مورنگاکی کاشت:(سوہا نجنا)
مورنگا ایک کرشماتی پودا ہے جو دنیا کے مفید ترین پودوں میں سے ایک ہے۔ یہ تیزی سے بڑھنے والا پودا ہے جو انسانی خوراک ،مویشیوں کے چارہ، پانی کو صاف کرنے اور ادویا ت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔مورنگا میں دوسری فصلوں کی نسبت غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا ء کا مقامی پودا ہے جو علاقہ میں خوراک کا اہم ذریعہ بن رہا ہے۔لہٰذا اس کی کاشتکاروں میں مناسب تشہیر کر کے اس کی کاشت کو فروغ دیں۔اس کی کا شت کے سلسلہ میں پو د ے زرعی یو نیو ر سٹی فیصل آ با د میں دستیا ب ہیں ۔

***

مکئی:
-1 پودوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں تاکہ فصل گرنے سے محفوظ رہے۔
-2 کھاد کی دوسری قسط بحساب 3/4بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔
-3 موسمی حالات کے مطابق ہر سات دن بعد پانی لگائیں۔
-4 فصل سے جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
-5 تنے کی سنڈی کے حملہ کی صورت میں دانے دار زہروں کو کونپلوں میں ڈالیں اور پانی لگا دیں۔
سبزیات:
-1 سرخ مرچ کی برداشت جاری رکھیں۔
-2 بیج کے لیے اگیتی، تندرست اور خوشنما مرچ کا انتخاب کریں۔برداشت کردہ مرچوں کو ڈھیر کی شکل میں نہ رکھیں۔
3۔ مولی، گاجر اور شلجم کی اگیتی فصل کاشت کریں۔مولی، شلجم اور گاجر کا بیج بالترتیب 4،1اور 5کلو گرام فی ایکٹر کے حساب سے استعمال کریں۔
-5 مولی ، شلجم کو کھیلیوں میں کاشت کریں۔ کھیلیوں کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں،بے موسمی سبزیات کی کاشت کے لیے محکمہ زراعت سے ٹنل ٹیکنالوجی بارے مشورہ کریں۔
باغات:
آم :
-1 پچھیتی اقسام کی برداشت جاری رکھیں۔
-2 شاخ تراشی کریں۔ نئے پودے لگائیں اور ناغے پر کریں۔
-3 ستمبر میں ایک آبپاشی ضرور کریں۔ جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔
-4 تیلہ اور سکیلز کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کریں ۔چھال کی بیماری اور منہ سٹری کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب زہروں کا سپرے کریں۔
ترشاوہ پھل :
-1 اس موسم میں پھل کی بڑھوتری کا عمل جاری رہتا ہے او ر نئے شگوفے نکلتے ہیں ۔ یوریا کھاد کی تیسری قسط اگر نہ ڈالی گئی ہوتوماہ ستمبر میں ڈال دیں۔
-2 میٹھے کو 1کلویوریا فی پودا ڈالیں۔
-3 آبپاشی کا وقفہ پندرہ دن رکھیں۔
-4 کیڑوں اور بیماریوں کو معائنہ کرنے کے بعد محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب تدارک کیا جائے۔
-5 کچے گُلے ختم کریں۔ پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں۔ نئے پودے لگانے سے پہلے کھیت کے اوپر کی مٹی، بھل اورگوبر کی گلی سڑی کھاد سب برابر مقدار میں ڈال کر بھر دیں اور پانی لگا کر ہموار کریں۔
مورنگاکی کاشت:(سوہا نجنا)
مورنگا ایک کرشماتی پودا ہے جو دنیا کے مفید ترین پودوں میں سے ایک ہے۔ یہ تیزی سے بڑھنے والا پودا ہے جو انسانی خوراک ،مویشیوں کے چارہ، پانی کو صاف کرنے اور ادویا ت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔مورنگا میں دوسری فصلوں کی نسبت غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا ء کا مقامی پودا ہے جو علاقہ میں خوراک کا اہم ذریعہ بن رہا ہے۔لہٰذا اس کی کاشتکاروں میں مناسب تشہیر کر کے اس کی کاشت کو فروغ دیں۔اس کی کا شت کے سلسلہ میں پو د ے زرعی یو نیو ر سٹی فیصل آ با د میں دستیا ب ہیں ۔

***