Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم اکتوبر تا15اکتوبر2012ء
Date 2012-10-01 - 2012-10-15
Advisory Content

ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
1- پٹڑیوں پر کاشت کی گئی کپاس کے لیے آخری پانی 10-7اکتوبر تک لگائیں ۔ اس میں تاخیر فصل کے لیے نقصان دہ ہے ۔سفید پھول جب پودے کی چوٹی پر پہنچ جائیں تو فوراََ آبپاشی کریں ۔آبپاشی موسم اورفصل کی حالت دیکھ کرکریں۔
2- اس موسم میں لشکری سنڈی اور سست تیلے کے حملہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔اس لیے پیسٹ سکاؤٹنگ ہفتہ میں دو بار جاری رکھیں اور انہیں ابتدائی مرحلہ پر ہی کنٹرو ل کریں۔
3- کپاس کی پہلی چنائی کا وقت آچکا ہے ۔ چنائی دس بجے کے بعدشروع کریں تاکہ اوس مکمل طور پر ختم ہو جائے ورنہ گیلی ہونے کی وجہ سے کپاس کی رنگت اور کوالٹی متاثر ہو گی۔
4- چنائی اس وقت شروع کرنی چاہیے جب40سے 50فیصد ٹینڈے پوری طرح پک کر کھل جائیں ۔
5- چنائی کرنے والی عورتیں اپنے بال سوتی دوپٹہ سے اس طرح باندھیں کہ بال گر کر چُنی ہوئی پُھٹی میں شامل نہ ہو نے پائیں۔
6- چنائی بچوں سے ہرگز نہ کروائی جائے۔
7- چنا ئی پودے کے نچلے حصے سے شروع کریں اور بتدریج اوپر کو چنائی کرتے جائیں تاکہ نیچے کے کُھلے ہوئے ٹینڈے اوپر کے ٹینڈوں کی پتیوں ،شاخوں یا کسی دوسری چیز کے گرنے سے آلودہ نہ ہوں۔
8- کاشتکاروں کو چاہیے کہ کپاس کی چنائی اپنی نگرانی میں کرائیں اور چنائی کرنے والوں کی قطار بنا کر ایک طرف سے چنائی شروع کریں۔ اس طریقے سے کاشتکاروں کو ان کی نگرانی کرنے اور انھیں ہدا یات دینے میں آسانی ہو گی۔
9- چنائی کے دوران چنی ہوئی پُھٹی کو صاف اور خشک کپڑے پر رکھ کر خشک جگہ پر اکٹھا کیا جائے تاکہ پُھٹی آلودگی سے محفو ظ رہ سکے۔
10- یاد رہے کہ بیج حاصل کرنے کے لیے فصل کی چنائی تھوڑے تھوڑے وقفے سے کریں تاکہ موسمی اثرات سے بیج کی روئیدگی متاثر نہ ہو۔
11- کپاس کی دو چنائیوں کا درمیانی وقفہ کم از کم 15سے20دن ہونا چاہیے۔جلدی چنائی کرنے سے غیر معیاری اور کچا ریشہ حاصل ہوتاہے۔ ایسی روئی کی قدر وقیمت مقامی اور عالمی منڈی میں کم ہو جا تی ہے۔
12- چنی ہوئی کپاس میں نمی ،کچے ٹینڈے ،ٹینڈوں کے ٹکڑے ،رسیاں ،سوتلی، بال وغیرہ ہر گز شامل نہ ہونے دیں ۔اگر ہوں تو گودام میں لے جانے سے پہلے یہ تمام اشیا ہاتھ سے چن کر نکال دیں۔
13- موسم ابرآلودہونے کی صورت میں چنائی نہ کی جائے۔
14- ذخیرہ کی جانے والی کپاس میں نمی 8تا10فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔نمی زیادہ ہونے کی صورت میں کپاس کو باہر دھوپ میں خشک کرنے کے بعد ذخیرہ کریں۔
15- آخری چنائی کی پُھٹی علیحدہ رکھنی چاہیے ۔کیونکہ وہ اعلی معیار کی نہیں ہوتی۔اگر یہ پُھٹی پہلی چنائیوں میں ملا دی جائے تو تمام پُھٹی کا معیار گر جائے گا۔
16- کپاس کی مختلف اقسام مثلاً بی ٹی اور نان بی ٹی کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے۔
17- کپاس کو صرف سوت سے بنے کپڑے کے بوروں میں ہی رکھیں ۔سلائی کے لیے صرف سوتی ڈوری استعمال کی جائے۔ یاد رکھیں پٹ سن کے بورے ،پٹ سن کے سیبے اور پولی پروپلین کے بوروں کا استعمال قانوناً جرم اور قابل دست اندازی پولیس ہے۔
18- سوتی بوروں میں روئی بھرنے سے پہلے تمام ناکارہ آلائشوں کو نکال دینا چاہیے تاکہ روئی کا معیار بہتر ہو سکے۔
19- کپاس کو زیادہ دیر تک گودام میں نہ رکھا جائے کیونکہ اس سے کپاس کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔
20- کپاس کی نقل وحمل کے لئے پٹ سن کے بوروں اور کھاد کی خالی بوریوں کو ہر گز استعمال نہ کریں۔
دھان:
1- موٹی اقسام کے لیے کٹائی اور پھنڈائی کا عمل شروع کریں ۔ کٹائی اس وقت کریں جب سٹہ کے اوپر والے دانے رنگ بدل چکے ہوں اور نیچے والے ابھی ہرے ہوں۔ پھنڈائی شدہ دانوں کو خشک کرنے کا بندوبست کریں تاکہ دانوں میں نمی 10تا12فیصد ہو رہ جائے۔
2- اگر فصل کمبائن ھارویسٹر سے کٹوانی ہو تو ایسی کمبائن ھارویسٹر استعمال کریں جس میں دھان کی کٹائی کے لیے ایڈجسٹمنٹ ہو۔
3- باسمتی اقسام میں دانہ بھرتے وقت پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
4- باسمتی اقسام کو آخری پانی کٹائی سے 15دن پہلے لگائیں۔
5- پچھیتی اقسام پرپتوں کا جراثیمی جھلساؤ(Bacterial Leaf Blight) ، بھورے دھبے (Brown Leaf Spot)اور بلاسٹ (Paddy Blast) کے حملہ کی صورت میں زرعی توسیع کے مقامی عملے کے مشورہ سے مناسب زہروں کا سپرے جاری رکھیں۔
کماد:
1- فروری کاشتہ فصل کو 15تا22دن کے وقفہ سے آبپاشی جاری رکھیں۔
2- اگر ستمبر کاشت مکمل نہ ہوئی ہو تو اس کو جلد مکمل کریں۔صرف محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
3- ستمبر کاشت کے لیے درمیانی زمین میں یوریا سوا تین بوری +ڈی اے پی دو بوری+پوٹاش دو بوری یا یوریا چار بوری +ٹی ایس پی دو بوری+پوٹاش دو بوری فی ایکڑ استعمال کریں۔ فاسفورسی او رپوٹا ش کھادوں کی پوری مقدار بوقت بجائی جبکہ نائٹروجنی کھاد کا 1/3 حصہ اگاؤ کے بعد نومبر جبکہ باقی بالترتیب مارچ اور اپریل میں ڈالیں۔
مکئی:
1- پھول آنے اور دانے کے دودھیا حالت میں فصل کو سوکا نہ آنے دیں لیکن دوسری طرف یہ فصل پانی کی زیادتی کو بھی برداشت نہیں کرتی۔ لہٰذا فالتو پانی نکالتے رہیں۔
2- آبپاش علاقوں میں پھول آنے سے قبل ایک بوری یوریا کھا د فی ایکٹر ڈالیں ہائبرڈ اقسام کے لیے کمزور زمین میں اڑھائی بوری جبکہ درمیانی زمین میں ڈیڑھ بوری یوریا فی ایکٹر ڈالیں۔
گندم:
1- بارانی علاقوں میں اگر بارش ہو جائے تو پانی کو محفوظ کرنے کے لیے گہرا ہل چلائیں تاکہ بوقت کاشت وتر مہیا ہو سکے۔
2- زمین کی تیاری شروع کریں۔اگر گلی سٹری کھاد ابھی تک نہ ڈالی ہو تو فوراً ڈالیں اور زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔بیج اور کھاد کا انتظام کریں۔
3- پنجاب کے تمام بارانی علاقوں کے لیے محکمہ زراعت کی منظورشدہ گندم کی اقسام جی۔اے2002، عقاب 2000، این اے ار سی 2009، این اے ار سی 2011، بارس2009 اوردھرابی کو 20اکتوبر سے 15نومبر تک۔چکوال 50کو 15اکتوبر تا 15نومبرتک کاشت کریں۔
4- پنجاب کے آبپاش علاقوں کے لیے عقاب 2000، پنجند1-،منٹھار 2003 ،افق2002، سحر 2006،شفق 2006، فرید2006، پاسبان 90، انقلاب91،معراج 2008-، لاثانی 2008-، فیصل آباد 2008-، بھکر 2002 ، آس، ملت2011، پنجاب 2011اوراری 2011 کے بیج کا انتظام کریں۔
5- گندم کی بوائی کیلئے بیج کومحکمہ زراعت کے مہیا کردہ سیڈ گریڈر کے ذریعہ مفت صاف کروا کر استعمال کریں۔
6- پنجاب کے آبپاش علاقوں میں گندم کی کاشت یکم نومبر سے شروع ہو گی۔لہٰذا بروقت کاشت کے لیے زمین کی اچھی تیاری کریں۔ وریال زمینوں میں چارپانچ دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں۔ اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جاتی ہیں اور فصل کو غذائی اجزاء قابل حصول حالت میں مل جاتے ہیں۔آخری تیاری کی لیے ہلکی زمین میں ایک بار ہل اور سہاگہ دینا کافی ہوتا ہے جبکہ بھاری میرا زمین میں دوبار ہل او رسہاگہ دیں۔
7- جڑی بوٹیوں کے مؤثرتدارک کے لیے داب کا طریقہ اپنائیں۔
8- بروقت کاشت کے لیے شرح بیج 50کلو گرام فی ایکٹر رکھیں۔بیماری ، جڑی بوٹی کے بیج سے پاک، صاف ستھرا اور صحت مند بیج کا ہی انتخاب کریں۔بیج کی اُگاؤ کی شرح 85فیصد سے ہرگز کم نہیں ہونی چاہیے بصورت دیگر شرح بیج میں مناسب اضافہ کرلینا چاہیے۔
9- کاشت سے پہلے بیج کو محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے پھپھوندی کش زہر ضرورلگائیں تاکہ فصل بیماری سے محفوظ رہے۔
نوٹ: انقلاب 91-اور بھکر- 2002بیماری سے متاثر ہ ہیں۔اس لیے انہیں کم سے کم رقبہ پر کاشت کریں۔
مسور:
10- مسور کی کاشت کے سلسلہ میں زمین کی تیاری شروع کریں ۔
11- منظور شدہ اقسام نیاب مسور 2002-، نیاب مسور 2006-، پنجاب مسور 2009-، مسور93-، چکوال مسوراور مرکز2009کے بیج کا بندوبست کریں۔
چنا:
چنے کی بروقت کاشت کریں۔ مختلف علاقوں کے لیے چنے کا وقت کاشت مختلف ہے۔ مثلاً اٹک اور چکوال کے لیے 25ستمبر تا 15اکتوبر۔گجرات، نارووال،جہلم اور راولپنڈی کے لیے 15اکتوبرتا10نومبر تھل کے علاقے بھکر ، خوشاب، میانوالی ، لیہ اور جھنگ کے لیے ماہ اکتوبر ، آبپاش علاقوں فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور وسطی وجنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے آخراکتوبر تا15نومبر جبکہ زیادہ زرخیز اور ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کا وقت کاشت 20اکتوبر تا10نومبر ہے۔
1- چنے کی کاشت ہمیشہ ڈرل یا پور سے کریں تاکہ بیج مناسب وتر میں گرے اور بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ ہلکی میراا ورریتلی زمینوں میں قطاروں کا فاصلہ ایک فٹ جبکہ بھاری میرا و زیادہ بارش والے علاقوں میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ ہو ۔ شرح بیج 30کلوگرام فی ایکڑ ڈالیں۔ پودوں کا درمیانی فاصلہ 6تا 8انچ ہو۔
2- ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی مخلوط کاشت بڑی کامیاب رہی ہے۔ساڑھے چار فٹ کے فاصلہ پر کاشتہ کماد میں بیڈپر چنے کی دولائنیں جبکہ دو تا اڑھائی فٹ کے فاصلہ پر کاشتہ کماد میں چنے کی ایک لائن کاشت کریں۔
3- آبپاش علاقوں میں ڈی اے پی ڈیڑھ بوری یا یوریا آدھی بوری+ٹی ایس پی ڈیڑھ بوری یا نائٹروفاس ایک بوری +ٹی ایس پی ایک بوری یا یوریا آدھی بوری+ایس ایس پی چار بوری جبکہ بارانی علاقوں میں ڈی اے پی ایک بوری فی ایکٹر استعمال کریں۔
4- اچھی پیداوار کے حصول کے لیے دیسی چنے کی اقسام بلکسر2000-، پنجاب2008-، ونہار2000-،بٹل98-، سی ایم98-، تھل 2006 اور بھکر 2011جبکہ کابلی چنے کی اقسام سی ایم2008-، نور91-اور نور 2009-کاشت کریں۔
کینولا:
1- کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کینولا یعنی میٹھی سرسوں کاشت کریں اگر علیحدہ رقبہ میسر نہ ہو تو ستمبر کاشتہ کماد ، چنے، گندم اور برسیم وغیرہ میں کامیابی سے اس کی مخلوط کاشت کی جا سکتی ہے۔
2- بیج کے حصول اور کاشتی امور کی راہنمائی کے لیے محکمہ توسیع زراعت اور پی او ڈی بی کے عملہ سے رجوع کریں۔
3- کینولا کی کاشت کا بہترین وقت 20ستمبر تا 31اکتوبر ہے۔منظورشدہ اقسام پنجاب سرسوں، فیصل کینولا، پی اے آر سی کینولا یا کینولا ہائبرڈ کاشت کریں۔
4- شرح بیج آبپاش علاقوں کے لیے ڈیڑھ تا دو کلوگرام جبکہ بارانی علاقوں میں دوتا اڑھائی کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
5- فصل کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج کو سرایت پذیر پھپھوندی کش زہر لگا نا بہت ضروری ہے۔
6- تیلدار اجناس کا بیج (NARC) اسلام آباد، پنجاب سیڈ کارپوریشن، مختلف زرعی تحقیقاتی اداروں، شعبہ روغندار اجناس (AARI)فیصل آباد، روغندار اجناس ریسرچ اسٹیشن خانپور، ریجنل زرعی تحقیقاتی ادارہ (RARI)،بہاولپور ، بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ (BARI)،چکوال اور پرائیویٹ کمپنیوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سبزیات:
آلو:
1- آلو کی کاشت کا بہترین وقت یکم اکتوبر سے آخراکتوبر تک ہے۔
2- آلو کی تازہ پیداوار بطور بیج نئی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہوتی ۔ کاشت سے پہلے خوابیدگی کو توڑنا ضروری ہوتا ہے۔ آلو 10تا12ہفتے پڑا رہنے سے خوابیدگی خودبخود ختم ہو جاتی ہے۔
3- بیماری سے پاک تصدیق شدہ بیج کا استعمال کریں۔
4- کاشت سے کم از کم 10دن پہلے بیج کو سردخانے سے نکال لیں اور سایہ دار جگہ پررکھیں تاکہ بیج باہر کے عام درجہ حرارت سے اپنے آپ کو مانوس کر لے اور اس میں شگوفے پھوٹ آئیں۔
5- موسم خزاں کی فصل کے لیے شرح تخم 1200تا1500کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔
6- کیمیائی کھادوں میں ڈی اے پی 2188بوری+یوریا1189بوری+پوٹاشیم سلفیٹ 2بوری+زنک سلفیٹ21فیصد 10کلو گرام یا نائٹروفاس 4188بوری +پوٹاشیم سلفیٹ2بوری+زنک سلفیٹ21فیصد 10کلوگرام فی ایکٹر ڈالیں۔
7- آلو کی بہترین اقسام ڈیزائری، کارڈنیل،ڈایامنٹ، فیصل آباد سفید، فیصل آباد سرخ، ایس ایچ 5-، پی آر آئی سفید اور پی آرآئی سرخ کا تصدیق شدہ بیج استعمال کریں۔
لہسن:
اکتوبر کا پہلا پندرھواڑہ لہسن کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ منظور شدہ اقسام لہسن گلابی اور جی ایس 1-ہیں۔
1- تیارشدہ زمین کو پانچ پانچ مرلے کی کیاریوں میں تقسیم کرلیں۔ہر کیاری کا ہموار ہونا ضروری ہے۔ پوتھیوں کو ہموار زمین پر لائنوں
میں کاشت کریں۔ پوتھی کو زمین میں دو تین سینٹی میٹر گہرادبا دیا جائے۔ اس کی جڑوں والا حصہ زمین میں رہنا چاہیے اور اوپر والا نوکدار حصہ باہر نظر آئے۔ پودے سے پودے کا فاصلہ چار انچ اور لائنوں کافاصلہ آٹھ تا دس انچ ہونا چاہیے۔
2- بیج کے لیے160کلوگرام بڑے سائز کی پوتھیاں فی ایکٹر استعمال کریں۔
3- 20تا25ٹن فی ایکٹرگوبر کی کھاد ایک ماہ پہلے ڈال دی گئی ہو تو اچھی پیداوار ممکن ہے۔کیمیائی کھادوں میں یوریا دو بوری، ڈی اے پی ایک بوری اور پوٹاشیم سلفیٹ دو بوری فی ایکٹر ڈالیں۔ فاسفورس ، پوٹاش اور نصف نائٹروجنی کھاد کی مقدار بوائی کے وقت جبکہ نصف نائٹروجنی کھاد نومبر اور دسمبر کے درمیان پندرہ دن کے وقفہ پر ڈال کر آبپاشی کریں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
1- سردیوں کے موسم میں موسم گرما کی اگیتی سبزیاں اگانے کے لیے محکمہ زراعت کی سفارش کردہ ٹنل ٹیکنالوجی کی عملی تربیت حاصل کریں۔اس مقصد کے لیے محکمہ زراعت(توسیع) یا فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے عملہ سے رابطہ کریں اور سبزیوں کی اگیتی اور زیادہ پیداوار لے کر اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔
2- اس وقت ٹنل میں مندرجہ ذیل سبزیاں کاشت کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے کھیرا اورگھیا کدو کی براہ راست کاشت بالترتیب 25اکتوبر تا 25نومبر اور 15اکتوبرتا31اکتوبر کی جا سکتی ہے۔
3- ٹماٹراور شملہ مرچ کی نرسری کا وقت کاشت یکم اکتوبر تا31اکتوبر اور سبز مرچ کی نرسری کا وقت کاشت 15اکتوبر تا31اکتوبر ہے۔
باغات:
1- خشک پودوں کو جلد از جلد تلف کر کے ان کی جگہ اگر ماحول ساز گار ہو تو نئے پودے لگائیں۔
2- اگرپودے کی کچھ شاخیں خشک ہو ئی ہوں تو ان کو کاٹ کر کٹی ہوئی جگہ پر پھپھوندی کش زہر پیسٹ بنا کر لگائیں۔
3- باغات کی بحالی کے لیے ان کو مناسب مقدار میں کھاد ڈالیں۔فاسفورسی کھاد جڑوں کی مضبوطی اور نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ پوٹاش ڈالنے سے فاسفورس کی افادیت اورپودے کی بڑھوتری بھی بہتر ہوتی ہے۔