Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 جون تا30 جون 2013ء
Date 2013-06-16 - 2013-06-30
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 جون تا30 جون 2013ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس
* اگیتی کاشتہ کپاس اس وقت بھرپور پھول ڈوڈی لے رہی ہے اس مرحلہ پر کھاد اور پانی کی کمی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
* بی ٹی اقسام اگر لائنوں میں کاشت کی ہیں تو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 2تا3دن بعد اور بقیہ 6تا9دن کے وقفہ سے لگائیں۔ پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔پانی کے باکفایت استعمال کے لیے (Tensiometer)کااستعمال کریں تاکہ فصل کو ضرورت کے مطابق پانی دیا جائے۔
* ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی روایتیکپاس کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد اس کے بعد ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے دیں ۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 6تا9 دن بعدآبپاشی کریں ۔
* آبپاشی کے کمی والے علاقوں میں متبادل کھیلیوں میں پانی دینے سے بہتر پیداوارلی جا سکتی ہے۔اس طریقہ آبپاشی میں تمام کھیلیوں کی نمبرنگ کر نے کے بعد پہلی آبپاشی پر جفت کھیلیوں میں پانی چھوڑا جائے اور طاق کھیلیوں کو بند رکھا جائے۔دوسری آبپاشی میں صرف طاق کھیلیوں کو پانی دیں اور جفت کھیلیوں کو بند رکھیں۔
* کھیتوں میں اور ارد گرد پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کی تلفی جاری رکھیں۔
* زیادہ درجہ حرارت اورٹینڈوں کی وجہ سے کچھ بی ٹی اقسام کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔
* سفید مکھی، ملی بگ ،لشکری سنڈی اور لیف کرل وائرس کے میزبان پودوں کو تلف کریں کیونکہ یہ کیڑوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔
* کھیت میں موجود کیڑوں کا ہر ہفتے باقاعدگی سے معائنہ کریں اور ہنگامی صورت حال میں ہفتے میں دودفعہ پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔کپاس کی ہر قسم کی علیحٰدہ علیحٰدہ پیسٹ سکاؤٹنگ ضروری ہے اس کے بعد سپرے کا فیصلہ مختلف کیڑوں کے نقصان کی معاشی حد کے مطابق کریں۔
* اس وقت کپاس کی فصل خوب ہری بھری اور سر سبز ہے۔ اس پر تیلہ اور لشکری سنڈی کا حملہ ہو سکتا ہے ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر سپرے کرنے میں دیر نہ کی جائے۔
* محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق کپاس کی حکمت عملی مرتب کریں۔
* سپرے صبح یا شام کے وقت کریں اور اندھا دھند سپرے کرنے سے اجتناب کریں۔
دھان
3 دھان کی پنیری کی کاشت جاری رکھیں۔
3 سپر باسمتی اور باسمتی 515-کی پنیری یکم جون تا20جون تک کاشت کریں۔
3 بو ا ئی سے د و ہفتہ قبل بیج کو پھپھوند ی کش ز ہر محکمہ ز را عت تو سیع کے مقا می عملہ سے مشورہ کر کے لگائیں۔
3 نرسر ی کے لیے کھیت کی تیاری کے دوران 33%والا زنک سلفیٹ بحساب 30کلوگرام فی ایکڑڈالنے سے زنک کی کمی دور کی جا سکتی ہے۔
3 معاشی حد سے زیادہ نقصان کی صورت میں دھا ن کی پنیر ی پر دوبا ر زہر پا شی کی جائے۔ پہلی ز ہر پا شی 10-8دن کی پنیر ی اور دوسری 15تا20دن کی پنیر ی پر زر عی تو سیع عملہ سے مشورہ کر کے کی جائے۔
3 اگر پنیری کہیں کمزور نظر آئے تو یوریاکھاد 188 کلوگرام فی مرلہ کے حساب سے پنیری کی منتقلی سے دس دن پہلے ڈالیں۔
3 کھیت میں لاب کی منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25تا35دن کے درمیان ہونی چاہیے۔
3 پنیری اکھاڑنے سے ایک دو روز پہلے پانی دے دیں تاکہ زمین نرم ہو جائے تاکہ اکھاڑتے وقت پودے کی جڑیں ٹوٹنے نہ پائیں۔
3 کلرکے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کے ایس 282-، باسمتی 385-، نیاب اری9-، کے ایس کے133- اور شاہین باسمتی کاشت کریں۔ جس کھیت میں لاب منتقل کرنی ہو ۔ اس کی تیاری گہرا ہل چلا کر شروع کریں لیکن کدو بالکل نہ کریں تاکہ پانی لگانے سے نمکیات کی دھلائی ہو سکے۔لاب منتقل کرنے سے پہلے 7تا 10دن تک کھیت میں پانی کھڑا رکھیں۔
چاول کی بذریعہ بیج براہ راست کاشت
ہمارے ملک میں دھان کی کاشت عام طور پر پنیری کے ذریعے کی جاتی ہے۔جبکہ دھان بیج سے براہ راست چھٹہ کے ذریعے بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔اس طریقہ کا شت میں زمین کی اچھی طرح ہمواری اور تیاری بہت اہم ہے۔کیونکہ اس سے فصل کا اگاؤ اور پانی کا انتظام بہتر طور پر ممکن ہے۔کھیت کو دو بار راؤنی کرتے ہوئے وتر آنے پر مئی کے آخری ہفتے یا جون کے پہلے ہفتہ میں چھٹہ کے ذریعے کاشت کریں۔باسمتی اقسام کے لیے 12کلو گرام اور موٹی اقسام کے لیے 15کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔بوائی کے 5تا 7دن میں تقریباََ 70فیصد بیج اگ آئے گا لہذا بوائی کے 5دن بعد کھیت کو ہلکا سا پانی لگاہیں لیکن پانی کھڑا نہ رکھیں ورنہ اگاؤ متاثر ہو گا۔پہلے پانی کے بعد سارا بیج اگ آئے گا اس کے 30دن تک تر وتر کاپانی لگاتے رہیں۔باقی تمام زرعی عوامل دھان کی روائتی کاشت کی طرح مکمل کریں۔
کماد
3 کماد کے گڑوؤں کے تدارک کیلئے زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے دانے دار زہروں کا استعمال کر کے کھیت کو پانی لگا دیں۔
3 فصل کو 10تا12دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں نیز فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
3 بیما ری کاحملہ ہونے کی صورت میں زہروں کا استعمال زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے کر یں۔
3 پانی کی کمی کی صورت میں ایک کھیلی چھوڑ کر آبپاشی کریں اور اگلے پانی پر صرف چھوڑی ہوئی کھیلیوں کو پانی لگائیں۔
جنتر
3 یہ ایک پھلی دار فصل ہے جو زمین کی زرخیز ی بڑھانے کے لیے بطور سبز کھاد کاشت کی جاتی ہے تاہم پنجاب کے بعض علاقوں میں اسے چارہ کے لیے بھی کاشت کیا جاتاہے۔خصوصاً یہ چھوٹے جانور وں کی من پسند غذا ہے ۔ یہ درمیانی قسم کی زمینوں میں بھی کاشت کیا جا سکتاہے۔ یہ فصل وسط مارچ سے آخر اگست تک کاشت کی جاتی ہے۔البتہ مون سون کی بارشوں کے دوران کاشتہ فصل کی بڑھوتری بہت اچھی ہوتی ہے ۔چارہ اور سبز کھاد کے لیے کاشت کی جانے والی فصل کے لیے20تا 25کلوگرام جبکہ بیج والی فصل کے لیے 10سے12کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔بہتر پیداوار کے لیے ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔پہلا پانی بوائی کے 18تا 22دن بعد لگائیں۔ سبزکھاد کے لیے کاشت کے بعد 40سے 50دن بعدیا پھول آنے سے قبل اسے روٹاویٹر سے کتر کر زمین میں دبا دیں۔
باغات
3 ترشاوہ باغات کو10تا15دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
3 آم کے باغات کو12تا14دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں گرے ہوئے پھل کو جمع کر کے زمین میں دبا دیں۔
3 کیڑوں کے حملہ کا جائزہ لیتے رہیں اور پھل اتارنے کا عمل مکمل ہونے تک پھل کی مکھی کے انسداد کی تدابیر جاری رکھیں اورپھندوں میں مکھی کی تعداد زیادہ ہو توسفارش کردہ زہرمحکمہ زراعت توسیع عملہ سے مشورہ کر کے سپرے کریں۔
3 بورڈ ومکسچر بنانے کے لئے ایک کلو گرام ان بجھا چو نا(چونے کا پتھر) اور ایک کلو گرام نیلا تھوتھا 100لیٹر پانی میں ملا کر بیماری سے متاثرہ پودوں پر سپرے کریں۔
سبزیات
3 سبزیات کو8تا10دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں البتہ کمزور زمین میں یہ وقفہ چار تا پانچ دن تک رکھیں۔
3 بینگن اور بھنڈی پر ہڈا بیٹل ،سبز تیلہ اور جوؤں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔
3 گھیا کدو ، چپن کدو، حلوا کدو،کھیرا اورگھیا توری پر اگر کدو کی لال بھونڈی کا حملہ مشاہدہ میں آئے تو محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا دھوڑا یا سپرے کریں۔