Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 اپریل تا 30 اپریل 2012ء
Date 2012-04-16 - 2012-04-30
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 اپریل تا 30 اپریل 2012ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
1ـ اپنی آئندہ فصل کے لیے بیج رکھنے کے لیے ایسے کھیت کا انتخاب کریں جہاں فصل تندرست خالص اور جڑی بوٹیوں سے پاک ہو۔ فصل کی بروقت سنبھال کے لیے کٹائی و گہائی سے پہلے ہی تھریشر، ٹریکڑ ، کمبائن ہارویسٹر اور مزدوروں وغیرہ کا انتظام کر لیں۔
2ـ برداشت کے دوران ریڈیو اور ٹی وی سے نشر ہونے والی موسمی پیشین گوئیوں پر نظر رکھیں۔
3ـ بارش کے دوران فصل کی کٹائی بند کر دیں اور اس وقت تک دوبارہ شروع نہ کریں جب تک موسم بہتر نہ ہو جائے۔
4ـ کٹائی کے بعد بھریاں قدرے چھوٹی باندھیں اور سٹوں کا رخ ایک ہی طرف رکھتے ہوئے کھلیان اس طرح لگائیں کہ سٹوں کا رُخ اوپر کی طرف رہے۔
5ـ کھلیان چھوٹے رکھیں اور اونچے کھیتوں میں لگائیں کھلواڑوں کے اردگرد پانی کے نکاس کے لیے کھائی بنائیں۔
بہاریہ مکئی
6ـ ڈرل یا پلانٹر سے کاشت کی گئی فصل کو پہلی آبپاشی کاشت کے 25تا30دن بعد کریں لیکن وٹوں پر کاشتہ فصل کو اُگاؤ تک وتر حالت میں رکھیں ۔
7ـ فصل کو حسبِ ضرورت مناسب وقفے سے آبپاشی کریں۔ بور آنے پر کسی صورت میں بھی پانی کی کمی نہ آنے دیں۔ بورآنے پر کھیت کو ہمیشہ تر وتر حالت میں رکھیں تاکہ دانہ بننے میں مدد ملے لیکن پانی کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔
8ـ پھول آنے پر کمزور زمین میں ایک بوری یوریا یا پونی دو بوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ جبکہ درمیانی زمین میں پونی بوری یوریا یا سوا بوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ ڈالیں۔
کماد
9ـ فصل کو گوڈی کریں اس سے جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جاتی ہیں اور زمین نرم ہونے سے فصل کی جڑیں خوب پھیلتی ہیں۔
10ـ نائٹروجن کھاد کی دوسری قسط ڈالیں اور کھاد کے بعد آبپاشی کریں۔
11ـ موڈھی فصل کی باقی ماندہ نائٹروجنی کھاد کی پہلی قسط اپریل کے آخری ہفتہ میں مٹی چڑھاتے وقت ڈالنی چاہیے۔
12ـ جڑ اور تنے کے گڑوؤں کے تدارک کے لیے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب دانہ دار زہریں ڈال کر کھیت کو پانی لگا دیں۔
کپاس
13ـ کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری اس طرح کی جائے کہ کھیت ہموار، زمین نرم اور بھربھری ہو۔
14ـ کپاس کی منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
بی ٹی اقسام:
15ـ کپا س کی بی ٹی اقسام علی اکبر 703-(یکم مارچ تا 15اپریل)، نیلم 121-(یکم مارچ تا 30اپریل)، ٹارزن1-،ایم این ایچ886-، این ایس141-، ایف ایچ 114-، آئی آر3-، سی آئی ایم 598-،ستارہ 009-، ستارہ008- اوراے ون(یکم مارچ تا 15مئی)، ایم جی 6- (یکم اپریل تا 15مئی)، آئی ار 3701-،علی اکبر 802-، جی این ہائبرڈ 2085-اور آئی ار1524- (15اپریل سے 15مئی ) تک کاشت کریں۔ بی ٹی اقسام کا انتخاب علاقے کی موزونیت، مقامی معلومات اور پچھلے سالوں کے تجربات کی روشنی میں کریں۔
16ـ بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
17ـ شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
18ـ اگیتی کاشت کے لیے 161کلو گرام نائٹروجن، 46تا70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فارسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ڈالیں۔
روایتی اقسام:
19ـ محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام سی آئی ایم 496-، سی آئی ایم506-، سی آئی ایم 554-، سی آئی ایم 573-، ایم این ایچ786-، سی آر ایس ایم38-، السیمی ایچ 151-،بی ایچ 167-، نبجی 115-، ایف ایچ 942-، نیاب 852-اور ایس ایل ایچ317- میں سے موزوں اقسام کا انتخاب کریں۔
20ـ مرکزی علاقہ جات میں کپاس کو 58تا69کلوگرام نائٹروجن ، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں جبکہ ثانوی علاقوں میں کپاس کو46تا 58کلوگرام نائٹروجن، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرا م پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس او رپوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور نائٹروجن کی مقدار کا 1/3حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
21- فاسفورس اور پوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور کل نائٹروجن کا 1/3 حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
سبزیات
1ـ سبزی کی گوڈی کریں جہاں ضرورت ہو تنوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں۔ 8 تا 10 دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
2ـ کیڑے اور بیماریوں کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے سپرے کریں۔
باغات
ترشاوہ پھل
1ـ پودوں کے کچے گلے اور غیر معمولی بڑھوتری والی شاخیں کاٹیں ویلنشیا لیٹ کی برداشت اور پیوند کاری کا عمل مکمل کریں۔ جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔
2ـ نائٹروجنی کھاد کی دوسری قسط ڈالیں اور عناصر صغیرہ کا ضرورت کے مطابق سپرے کریں۔
3- 15 دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں پھل شروع ہونے کے فوراً بعد پانی ضرور دیں۔
4ـ کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف سپرے کریں۔ تنوں پر بورڈ و پیسٹ کریں۔ جنسی پھندے لگانے کا عمل جاری رکھیں۔
آم
1ـ جڑی بوٹی مار زہروں سے جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔ بٹور کی کٹائی جاری رکھیں۔
2ـ نائٹروجنی کھاد (یوریا) بطور دوسری خوارک 1 کلو گرام فی پودا ڈالیں۔ پتوں پر چھوٹے غذائی اجزاء سپرے کریں۔
3ـ آم کے باغات میں آبپاشی کا وقفہ 20 دن کا رکھیں۔
4ـ منہ سڑی کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کریں۔تنوں پر بورڈ و پیسٹ لگائیں۔
5ـ پھل کی مکھی کے خلاف پھندوں کاانتظام کریں۔