Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 مئی تا31 مئی 2014ء
Date 2014-05-16 - 2014-05-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 مئی تا31 مئی 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
* کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لیے زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں۔ زمین کی تیاری اس طرح کی جائے کہ کھیت ہموار، زمین نرم اور بھربھری ہو۔
* کپاس کی منظورشدہ اقسام ہی کاشت کریں۔
بی ٹی اقسام:
* کپا س کی بی ٹی اقسام علی اکبر 703-(15 مارچ تا 15اپریل)، نیلم 121-(15 مارچ تا 30اپریل) ایم جی 6- (یکم اپریل تا 15مئی)، آئی ار 3701-،علی اکبر 802-، جی این ہائبرڈ 2085-، آئی ار1524- (15اپریل سے 15مئی ) ، ٹارزن1-،ایم این ایچ 886،ستارہ008-، وی ایچ 259-، بی ایچ178-، سی آئی ایم599-، سی آئی ایم602-، ایف ایچ 118-، ایف ایچ142-، آئی آر نیاب 824-، آئی یو بی 222-، سی ای ایم بی 33-،سائبان 201-، ستارہ 11ایم، اے555-، کے زیڈ181-،ٹارزن2- اورسی اے 12- (15مارچ سے 15مئی ) تک کاشت کریں۔ بی ٹی اقسام کا انتخاب علاقے کی موزونیت، مقامی معلومات اور پچھلے سالوں کے تجربات کی روشنی میں کریں۔
* بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
* شرح بیج بُراترا ہوا6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
* لائنوں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 3تا4دن بعد، دوسرا،تیسرا اور چوتھا پانی 6تا9دن کے وقفے سے اوربقیہ پانی15دن کے وقفے سے لگائیں۔پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔
* چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں تاکہ فصل تندرست اور توانا ہو۔ چھدرائی کرتے وقت کمزور اور بیمار پودوں کو ضرور نکالیں۔اگیتی کاشتہ فصل (مارچ) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 12تا15انچ ، درمیانی کاشت (اپریل) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9تا 12انچ جبکہ پچھیتی کاشت (یکم مئی تا 15مئی) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھیں اور کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں۔ تاکہ فی ایکڑ پودوں کی تعداد مناسب رہے۔
*اگیتی کاشت کے لیے 161کلو گرام نائٹروجن، 46تا70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فاسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت، 1/6حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن کھاد ایک پانی چھوڑ کر اگلے پانی پر ڈالتے جائیں۔ مئی میں کاشتہ فصل کے لیے 1/4حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ، 1/4حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد، 1/4حصہ ڈوڈیاں بننے پر اور بقیہ 1/4حصہ ٹینڈے بننے پر استعمال کریں۔
روایتی اقسام:
* محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام سی آئی ایم 496-، سی آئی ایم506-، سی آئی ایم 554-، نیاب 777-،سی آئی ایم 608-، ایم این ایچ786-، سی آر ایس ایم38-، السیمی ایچ151-،سی آئی ایم 573-، ایس ایل ایچ317-،بی ایچ 167-، نبجی 115-،ایف ایچ 942-، نیاب 852-، نیاب 846، نیاب کرن، نیاب 112-اورجی ایس 1- میں سے موزوں اقسام کا انتخاب کریں۔
* کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں یکم اپریل سے31مئی تک کاشت مکمل کریں جبکہ ثانوی و دیگر علاقوں میں یکم اپریل سے15مئی تک کاشت مکمل کریں۔ کاشت پٹٹریوں پر کریں اور ہموار زمین پر قطاروں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی کے بعد پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن میں مٹی چڑھا کر پٹڑیاں بنا دیں۔
* چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں۔ مرکزی علاقہ جات میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ جبکہ ثانوی علاقہ جات علاقوں میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔
* ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی کپاس سی آئی ایم 506- ، سی آئی ایم 554-، نیاب 112-، سی آئی ایم 608-اور جی ایس 1-کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد جبکہ بقیہ اقسام کو40تا50دن بعداس کے بعد ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے کریں ۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 7تا10 دن بعدآبپاشی کریں ۔
* مرکزی علاقہ جات میں کپاس کو 58تا69کلوگرام نائٹروجن ، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں جبکہ ثانوی علاقوں میں کپاس کو46تا 58کلوگرام نائٹروجن، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرا م پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس او رپوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور نائٹروجن کی مقدار کا 1/3حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔ 1/3حصہ نائٹروجن پہلے پانی کے ساتھ (ڈوڈیاں بننے پر) اور باقی ماندہ نائٹروجن دوسرے پانی کے ساتھ(پھول شروع ہونے پر) استعمال کریں۔
گندم:
* گندم کو سٹور کرنے کے لیے نئی بوریاں استعمال کریں بصورت دیگر پرانی بوریوں کو سفارش کردہ زہرکے محلول سے ا چھی طرح سپرے کرنے کے بعد خشک کر کے گندم بھر یں اور پھر گوداموں میں ذخیرہ کریں۔
*گندم ذخیرہ کرنے سے قبل گوداموں کو اچھی طرح صاف کریں ۔ گودام روشن اور ہوار دار ہونے چاہئیں۔سوراخ اوردراڑیں وغیرہ بند کر دیں تاکہ گذشتہ سال کے کیڑوں کے انڈے اور بچے تلف ہو جائیں۔پھر محکمہ زراعت کے عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں یا دھونی دیں۔
*غلہ گوداموں میں رکھتے وقت اس میں نمی 10فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
*چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں بحساب 35-30 فی ہزارمکعب فٹ استعمال کریں اورگودام بالکل ہوا بند ہونے چاہیں۔ گودام تین تا چار دن بند رکھیں۔
*اگر جنس کھلی پڑی ہوئی ہو تو اس کو پلاسٹک شیٹ سے اچھی طرح ہوا بند کر لیں۔
*گوداموں کی سال میں دومرتبہ ایک غلہ ذخیرہ کرتے وقت اور دوسرا ماہ جولائی میں فیومیگیشن کریں ۔
دھا ن:
*دھان کی پنیری 20مئی سے پہلے ہرگز کاشت نہ کریں کیونکہ دھان کے تنے کی سنڈیاں موسم سرما کومڈھوں میں سرمائی نیند سو کر گزارتی ہیں۔تنے کی سنڈیوں کے پروانے درجہ حرارت بڑھ جانے سے زیادہ تر مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں نکلتے ہیں اگر اس دوران دھان کی پنیری کاشت کی گئی ہو تو پروانے ان پر انڈے دے کر اپنی نسل کا آغاز کر دیتے ہیں ۔لہٰذا کاشتکار 20مئی سے پہلے دھان کی پنیری ہرگز کاشت نہ کریں۔
*دھان کی کاشت کے لیے ترقی دادہ اور منظور شدہ موٹی اقسام کے ایس ,282نیاب اری 9،اری 6،کے ایس کے133،کے ایس کے 434اورباسمتی اقسام میں سپر باسمتی، پی ایس2-،باسمتی515-،باسمتی385،باسمتی2000،باسمتی370،شا ہین باسمتی،باسمتی پاک (کرنل باسمتی)اورباسمتی 198کے علاوہ ہائبرڈ اقسام وائے 26، پرائیڈ1-، شہنشاہ2-،بی ایچ بی 71-اور پی کے 386-کے بیج کا انتظام کریں۔
*غیر موزوں اقسام مثلاً سپر فائن ، کشمیرا، مالٹا، ہیرو، سپرا اور اس طرح کی دیگر اقسام ہرگز کاشت نہ کریں۔ کیونکہ ان کے چاول کا معیار ناقص ہوتاہے۔ اس اقسام کی ملاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں باسمتی چاول کی قیمت کم وصول ہوتی ہے۔
کماد:
فصل کو گوڈی کریں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جا تی ہیں اور ز مین نر م ہو نے سے فصل کی جڑ یں خو ب پھیلتی ہیں نیز تنے کے گڑووں کے تدراک کیلئے مناسب دانے دار زہر کونپلوں میں ڈال کر کھیت کو پا نی لگا د یں ۔
بہا ریہ مکئی:
فصل کو حسب ضرو رت منا سب وقفے سے آ بپا شی کر یں بو ر آنے پر کسی صو ر ت میں بھی پانی کی کمی نہ آ نے دیں تاکہ کھیت ترو تر حالت میں رہے اور دانہ بننے میں مد د ملے۔ لیکن پانی کھڑا نہیں ہو نا چا ہیے پھو ل آ نے پر اگر زمین کمزور ہو تو مکئی کو ایک بوری یو ر یا فی ایکڑ ڈالیں۔
مونگ پھلی:
*مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری جاری رکھیں۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
*زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں مارچ تا اپریل میں کرنی چاہیے۔لیکن وتر کی کمی بیشی کے پیش نظر اسے 25مارچ سے 31مئی تک کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔
با غا ت:
آم کے با غا ت کو 12تا 15دن کے وقفے سے آبپا شی کر یں ۔
پھل کی مکھی کیلئے پھند ے لگائیں عمو ماً چار پھندے فی ایکڑ کافی ہوتے ہیں۔ اگر پھندوں میں پھل کی مکھیو ں کی تعداد ز یا د ہ ہو تو پھل کی مکھی کے خلاف محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر سپرے کر یں۔ ترشا وہ با غا ت کو 15دن کے وقفہ سے آبپاشی کر یں پو دے کے تنو ں پر پیوند سے نیچے پھوٹ اور کچے گلے کی کٹا ئی کر یں جڑی بو ٹیوں کا تدرا ک بذریعہ ہل یا سپر ے کریں ۔
سبزیا ت:
مو سم گرما کی سبزیا ت کو گو ڈی کریں جہاں ضرورت ہو تنوں کے ساتھ مٹی چڑھائیں اور 10-8 دن کے وقفہ سے آبپا شی کر یں ۔
خر بو زے کی فصل پر پھل کی مکھی کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ کے مشورہ سے مناسب زہر سپر ے کریں سپرے کر نے کے بعد کم از کم دس دن تک پھل نہ توڑ یں ۔
نامیاتی کاشتکاری(Organic Farming) :
آرگینک فارمنگ ایسا طریقہ کاشتکاری ہے جس میں مصنوعی کیمیائی کھادیں، زرعی زہروں اور دوسرے کیمیائی مادوں کا استعمال بالکل نہیں کیا جاتا۔ اس طریقہ کاشت میں زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے کے لیے فصلوں کا ادل بدل ، فصلات کی باقیات، گوبر کی کھاد پریس مڈھ اور سبز کھادوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔خالص اور عمدہ خوراک کے حصول کے لیے آرگینک فارمنگ کا طریقہ دنیا بھر میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔ اس طریقہ کاشتکاری سے حاصل ہونے والی خوراک کیمیائی اثرات سے پاک ہوتی ہے اور قدرت کے قریب ہوتی ہے۔مقامی اور عالمی منڈی میں ایسی اجناس اور سبزیات کی قیمت عام فصلات سے کئی گنازیادہ ملتی ہے۔ اس لیے اس طریقہ کاشتکاری کو اپنا کر زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔کیمیائی کاشتکاری کو نامیاتی کاشتکاری میں تبدیل کرنے کے لیے تین سال کا عرصہ درکار ہے۔ ابتدائی 3سے4سال میں نامیاتی کاشتکاری کی پیداوار غیر نامیاتی کاشتکار ی سے کم ہوتی ہے لیکن بتدریج ان فصلات کی پیداوار بہتر ہوتی ہے ۔ آرگینک فارمنگ اپناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے آرگینک فارم میں متصل کھیتوں سے کوئی کیمیائی مادے جذب نہ ہورہے ہوں۔