Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 جون تا30 جون 2014ء
Date 2014-06-16 - 2014-06-30
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 جون تا30 جون 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
*اگیتی کاشتہ کپاس اس وقت بھرپور پھول ڈوڈی لے رہی ہے اس مرحلہ پر کھاد اور پانی کی کمی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
* بی ٹی اقسام اگر لائنوں میں کاشت کی ہیں تو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 3تا4دن بعد اور بقیہ 6تا9دن کے وقفہ سے لگائیں۔ پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔(پانی کے باکفایت استعمال کے لیے (Tensiometer)کااستعمال کریں تاکہ فصل کو ضرورت کے مطابق پانی دیا جائے۔)
* ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی چھوٹے قد والی روایتیکپاس کی اقسام کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد اس کے بعدلمبے قد والی کپاس کی ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے دیں ۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 6تا9 دن بعدآبپاشی کریں ۔
* آبپاشی کے کمی والے علاقوں میں متبادل کھیلیوں میں پانی دینے سے بہتر پیداوارلی جا سکتی ہے۔اس طریقہ آبپاشی میں تمام کھیلیوں کی نمبرنگ کر نے کے بعد پہلی آبپاشی پر جفت کھیلیوں میں پانی چھوڑا جائے اور طاق کھیلیوں کو بند رکھا جائے۔دوسری آبپاشی میں صرف طاق کھیلیوں کو پانی دیں اور جفت کھیلیوں کو بند رکھیں۔
* کھیتوں میں اور ارد گرد پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کی تلفی جاری رکھیں۔
* زیادہ درجہ حرارت اورزیادہ ٹینڈوں کی وجہ سے کچھ بی ٹی اقسام کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔
* سفید مکھی، ملی بگ ،لشکری سنڈی اور لیف کرل وائرس کے میزبان پودوں کو تلف کریں کیونکہ یہ کیڑوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔
* کھیت میں موجود کیڑوں کا ہر ہفتے باقاعدگی سے معائنہ کریں اور ہنگامی صورت حال میں ہفتے میں دودفعہ پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔کپاس کی ہر قسم کی علیحٰدہ علیحٰدہ پیسٹ سکاؤٹنگ ضروری ہے اس کے بعد سپرے کا فیصلہ مختلف کیڑوں کے نقصان کی معاشی حد کے مطابق کریں۔
* اس وقت کپاس کی فصل خوب ہری بھری اور سر سبز ہے۔ اس پر تیلہ اور لشکری سنڈی کا حملہ ہو سکتا ہے ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر سپرے کرنے میں دیر نہ کی جائے۔
* محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق کپاس کی حکمت عملی مرتب کریں۔
* سپرے صبح یا شام کے وقت کریں اور اندھا دھند سپرے کرنے سے اجتناب کریں۔
دھان:
* دھان کی فصل ہر قسم کی زمین میں کاشت کی جاسکتی ہے۔ سوائے ریتلی زمینوں کے جہاں پانی کھڑ ا نہ رہ سکے۔ زرخیز زمینوں کے علاوہ ایسی شورزدہ کلر اٹھی زمینوں میں بھی یہ کامیابی سے اُگائی جا سکتی ہے جہاں کوئی اور فصل کامیاب نہیں ہو سکتی۔
* باسمتی اقسام: سپر باسمتی، باسمتی 385، باسمتی 370، باسمتی پاک(کرنل باسمتی) ، باسمتی 198،باسمتی 2000، باسمتی 515، شاہین باسمتی ، پی ایس 2، موٹی اقسام:اری 6، کے ایس282، کے ایس کے133،کے ایس کے 434،نیاب اری 9،ہائبرڈ اقسام: وائے26،پرائیڈ1،شہنشاہ 2، پی ایچ بی 71، پی کے 386،نیاب 2013-اورآرائزسوئفٹ کا تصدیق شدہ اور صحت مند بیج استعمال کریں۔
* سپر فائن، کشمیرا ، مالٹا، ہیرو، سپرا اور اس طرح کی دیگر اقسام ہرگز کاشت نہ کی جائیں۔
* دھان کی فصل کو بکائنی اور پتوں کے بھورے دھبے جیسی بیماریوں سے بچانے کے لیے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے بیج کو سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر بحساب دو تااڑھائی گرام فی کلوگرام بیج کو لگائیں۔
* شرح بیج مروجہ طریقہ کاشت کے حساب سے رکھیں۔ موٹی اقسام کی پنیر ی اگر کدو کے طریقہ سے کاشت کرنی ہوتو 6تا7کلوگرام، خشک طریقہ میں 8تا10کلوگرام اور راب کے طریقہ میں 12تا15کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ باسمتی اقسام کے لیے اگر پنیری کدو کے طریقے سے کاشت کرنی ہو تو شرح بیج 4.5تا5کلوگرام، خشک طریقہ میں 6تا7کلوگرام اور راب کے طریقے میں 10تا12کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ہائبرڈ اقسام کے کدوکے طریقہ سے شرح بیج 6کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔
* دھان کی پنیری 20مئی سے پہلے ہرگز کاشت نہ کریں۔ اری6، کے ایس 282،کے ایس کے133 ،کے ایس کے 434، نیاب اری9، نیاب 2013 اورپی کے 386کے لیے پنیری کاوقت کاشت 20مئی تا7جون ہے۔ سپر باسمتی ، باسمتی 370، باسمتی 385، باسمتی پاک ، باسمتی 2000، باسمتی 515اورپی ایس2یکم جون تا 20جون تک کاشت کریں۔ باسمتی 198(ساہیوال، اکاڑہ اور ملحقہ علاقوں کے لیے) یکم جون تا15جون اور شاہین باسمتی 15جون تا 30جون تک کاشت کریں جبکہآرائزسوئفٹ، وائے26،پرائیڈ1،شہنشاہ 2اورپی ایچ بی 71 کے لیے پنیری کا وقت کاشت 20مئی تا 15جون ہے۔
* اگرپنیری کمزور نظر آئے تو 1/4کلوگرام یوریا یا 1/2کلوگرام امونیم سلفیٹ فی مرلہ کے حساب سے پنیری کی منتقلی سے دس دن پہلے ڈالیں۔
* دھان کی پنیری پر زہر پاشی دوبار کی جائے۔ پہلی بار8 تا 10 دن کی پنیر ی پر دھوڑا یا سپرے کی شکل میں اور دوسری مرتبہ 15تا20دن کی پنیری پر دانے دار زہروں کا استعمال کریں۔
* اگر پانی معمول کے مطابق دستیاب ہوتو مکمل کدو والے طریقہ میں زمین کو تقریباً ایک ماہ پہلے پانی دیا جائے اور چند دن بعد زمین میں دوہرا ہل اور سہاگہ دیا جائے۔ یہ عمل ہفتہ عشرہ بعد تین چار دفعہ کیا جائے۔ زمین کی تیاری کے دوران کھیت کو ہوا لگنے دی جائے تاکہ جڑی بوٹیوں اگ آئیں اورہل سہاگہ چلانے کے بعد تلف ہو جائیں۔
* اگر پانی کی کمی ہوتوکھیت کو ہلکا پانی لگا کر زمین تیار کرلیں۔ اس کے بعد لاب لگانے کے لیے زمین کی تیاری تک کھیت کو کھلا چھوڑ دیں پھر لاب کی منتقلی سے تین دن پہلے کھیت کو پانی دے کر دوہرا ہل اور سہاگہ چلا کر کدو کریں اور زمین لاب کے لیے تیار کر لیں۔ اس طرح تیار شدہ زمین میں اگلے دن لاب منتقل کر دیں۔
چاول کی بذریعہ بیج براہ راست کاشت:
ہمارے ملک میں دھان کی کاشت عام طور پر پنیری کے ذریعے کی جاتی ہے۔جبکہ دھان بیج سے براہ راست چھٹہ کے ذریعے بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔اس طریقہ کا شت میں زمین کی اچھی طرح ہمواری اور تیاری بہت اہم ہے۔کیونکہ اس سے فصل کا اگاؤ اور پانی کا انتظام بہتر طور پر ممکن ہے۔کھیت کو دو بار راؤنی کرتے ہوئے وتر آنے پر مئی کے آخری ہفتے یا جون کے پہلے ہفتہ میں چھٹہ کے ذریعے کاشت کریں۔باسمتی اقسام کے لیے 12تا14کلو گرام اور موٹی اقسام کے لیے 14تا16کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔بوائی کے 5تا 7دن میں تقریباََ 70فیصد بیج اگ آئے گا لہٰذا بوائی کے 5تا7دن بعد کھیت کو ہلکا سا پانی لگاہیں لیکن پانی کھڑا نہ رکھیں ورنہ اگاؤ متاثر ہو گا۔پہلے پانی کے بعد سارا بیج اگ آئے گا اس کے 30دن تک تر وتر کاپانی لگاتے رہیں۔باقی تمام زرعی عوامل دھان کی روائتی کاشت کی طرح مکمل کریں۔
کماد:
* کماد کے گڑوؤں کے تدارک کیلئے زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے دانے دار زہروں کا استعمال کر کے کھیت کو پانی لگا دیں۔
* فصل کو 10تا12دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں نیز فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں۔
* بیما ری کاحملہ ہونے کی صورت میں زہروں کا استعمال زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے کر یں۔
* پانی کی کمی کی صورت میں ایک کھیلی چھوڑ کر آبپاشی کریں اور اگلے پانی پر صرف چھوڑی ہوئی کھیلیوں کو پانی لگائیں۔
جنتر:
* یہ ایک پھلی دار فصل ہے جو زمین کی زرخیز ی بڑھانے کے لیے بطور سبز کھاد کاشت کی جاتی ہے تاہم پنجاب کے بعض علاقوں میں اسے چارہ کے لیے بھی کاشت کیا جاتاہے۔خصوصاً یہ چھوٹے جانور وں کی من پسند غذا ہے ۔ یہ درمیانی قسم کی زمینوں میں بھی کاشت کیا جا سکتاہے۔ یہ فصل وسط مارچ سے آخر اگست تک کاشت کی جاتی ہے۔البتہ مون سون کی بارشوں کے دوران کاشتہ فصل کی بڑھوتری بہت اچھی ہوتی ہے ۔چارہ اور سبز کھاد کے لیے کاشت کی جانے والی فصل کے لیے20تا 25کلوگرام جبکہ بیج والی فصل کے لیے 10سے12کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔بہتر پیداوار کے لیے ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ بوقت کاشت ڈالیں۔پہلا پانی بوائی کے 18تا 22دن بعد لگائیں۔ سبزکھاد کے لیے کاشت کے بعد 40سے 50دن بعدیا پھول آنے سے قبل اسے روٹاویٹر سے کتر کر زمین میں دبا دیں۔
باغات:
* ترشاوہ باغات کو10تا15دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
* آم کے باغات کو12تا14دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں گرے ہوئے پھل کو جمع کر کے زمین میں دبا دیں۔
* کیڑوں کے حملہ کا جائزہ لیتے رہیں اور پھل اتارنے کا عمل مکمل ہونے تک پھل کی مکھی کے انسداد کی تدابیر جاری رکھیں اورپھندوں میں مکھی کی تعداد زیادہ ہو توسفارش کردہ زہرمحکمہ زراعت توسیع عملہ سے مشورہ کر کے سپرے کریں۔
* بورڈ ومکسچر بنانے کے لئے ایک کلو گرام ان بجھا چو نا(چونے کا پتھر) اور ایک کلو گرام نیلا تھوتھا 100لیٹر پانی میں ملا کر بیماری سے متاثرہ پودوں پر سپرے کریں۔
سبزیات:
* سبزیات کو8تا10دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں البتہ کمزور زمین میں یہ وقفہ چار تا پانچ دن تک رکھیں۔
* بینگن اور بھنڈی پر ہڈا بیٹل ،سبز تیلہ اور جوؤں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔
* گھیا کدو ، چپن کدو، حلوا کدو،کھیرا اورگھیا توری پر اگر کدو کی لال بھونڈی کا حملہ مشاہدہ میں آئے تو محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا دھوڑا یا سپرے کریں۔