Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم جولائی تا15 جولائی 2014ء
Date 2014-07-01 - 2014-07-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم جولائی تا15 جولائی 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
اگیتی کاشتہ کپاس اس وقت بھرپور پھول ڈوڈی لے رہی ہے اس نازک مرحلے پرفصل کی نگہداشت بہت ضروری ہے۔اس میں ذرا سی کوتاہی بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
* نائٹروجنی کھادکا استعمال زمین کی زرخیزی اورفصل کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں ۔
* زیادہ درجہ حرارت اورٹینڈوں کی وجہ سے کچھ بی ٹی اقسام کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جس جگہ زمین میں تجزیہ کے بعدبوران اور زنک کی کمی پائی گئی ہو توبوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔
* کھیتوں میں اور ارد گرد پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کی تلفی جاری رکھیں۔
* سفید مکھی، ملی بگ ،لشکری سنڈی اور لیف کرل وائرس کے غیر ضروری متبادل خوراکی پودوں کو تلف کریں کیونکہ یہ کیڑوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔
* اس وقت کپاس کی فصل خوب ہری بھری اور سر سبز ہے۔ اس پرسفید مکھی،چست تیلہ اور لشکری سنڈی کا حملہ ہو سکتا ہے ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر سپرے کرنے میں دیر نہ کی جائے۔البتہ موسم گرم اور خشک ہونے کی صورت میں جوؤں کا حملہ بڑھ سکتا ہے اس کا بھی بروقت تدارک کیا جائے۔
* اگر کپاس پر امریکن سنڈی 3دن سے زیادہ عمر کی نظر آئے تو سمجھ لیں کہ یہ بی ٹی کپاس نہیں ہے اس کے لیے نان بی ٹی (عام) اقسام کے لحاظ سے معاشی حدمقرر کی جائے اور سپرے کیا جائے۔
* کپاس کی فصل میں ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اگرکیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت ( توسیع) کے عملہ سے مشورہ کریں۔
* بی ٹی اقسام اگر لائنوں میں کاشت کی ہے توآبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں آبپاشی 6تا9دن کے وقفہ سے لگائیں۔ پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔آبپاشی واٹر سکاؤٹنگ کرنے کے بعد کریں۔
* ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی روایتیکپاس کو آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے دیں ۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں 6تا9 دن کے وقفے سے آبپاشی کریں ۔
کماد:
موسمی حالات کو پیش نظر رکھتے ہو ئے15تا20دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں ستمبر کاشتہ کماد کے لئے 20آبپاشیوں کی ضرورت ہے آبپاشی میں وقفہ موسمی حالات کے پیش نظربڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے۔پانی کی کمی کی صورت میں ایک کھیلی چھوڑ کر آبپاشی کریں اور اگلے پانی پر صرف چھوڑی ہوئی کھیلیوں کو پانی لگائیں۔
دھان:
* کھیت میں لاب کی منتقلی کے وقت پنیری کی عمر25سے35 دن کے درمیان ہونی چاہیے۔البتہ سیم زدہ علاقہ جات میں کاشت کے لیے پنیری کی عمر 35سے 45دن تک رکھیں۔
* پنیری اکھاڑتے وقت جھلسے ہوئے یاسنڈی سے متاثرہ پودے زمین میں تلف کر دیں۔
* 9-9 انچ کے فاصلے پر دو دو پودے اکٹھے لگائیں اس طرح فی ایکڑ سوراخوں کی تعداد 80,000 جبکہ پودوں کی تعداد تقریبا 160,000بنتی ہے۔اگر وافر مقدار میں پانی موجود ہو تو جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے کھیت میں 3 انچ پانی 30دن تک کھڑارکھیں۔
* اگر جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ زہریں کرنی ہو تو سفارش کردہ جڑی بوٹی مار زہر لاب کی منتقلی کے3تا5دن کے اندر اندرچھڑکاؤ کریں۔
* موٹی اقسام کے لیے پونے دو بوری ڈی اے پی ، سوا دو بوری یوریا اور سوا بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ جبکہ باسمتی اقسام کے لئے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + پونی بوری یوریا اورایک بوری پوٹاش فی ایکڑ بوقت منتقلی پنیری ڈالیں۔
* فاسفورس اور پوٹاش کی ساری مقدار اور آدھی نائٹروجن بوقتِ کاشت آخری سہاگہ دینے سے پہلے ڈالیں بقیہ نائٹروجن کھاد لاب لگانے کے35دن بعد ڈالیں میرا زمین میںیا دیر سے پکنے والی باسمتی اقسام کو نائٹروجن تین قسطوں میں ڈالیں۔
* جزوی طو ر پرباڑہ زمین اور ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں میں کھادوں کے ساتھ جپسم دس بوری فی ایکڑ ڈالیں۔
* لاب لگانے کے10تا12دن بعد35%والا زنک سلفیٹ 5کلو گرام یا20%والا زنک سلفیٹ 10کلو گرام فی ایکڑ ڈالیں۔
تِل:
* سیم تھور کے علاوہ تِل ہرقسم کی زمین پر کاشت کئے جا سکتے ہیں۔پانی جذب کرنے والی درمیانی اوربھاری میرا زمین تل کی کاشت کے لئے موزوں ہے۔ پنجاب میں عام کاشت کے لئے سفید تلوں کی منظور شدہ اقسام ٹی ایچ 6-،ٹی ایس5- اور ٹی ایس۔3 ہیں جو بہتر پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ٹی ایچ۔6 مقابلتاََ بہتر پیداوار کی حامل ہے۔
* اچھی پیداوار کے حصول کے لئے پندرہ جولائی تک کاشت مکمل کریں۔
* شرح بیج ڈرل سے قطاروں میں کاشت کے لئے ڈیڑھ سے دو کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
* ڈرل سے قطاروں میں تروتر میں کاشت کریں اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں ۔بوائی سے قبل بیج کو پھپھوند کش زہر مثلاََ تھائیو فینیٹ یا بینلیٹ بحساب 2گرام فی کلو گرام بیج لگائیں۔
* فاسفورسی کھاد کی کل مقدار بوائی سے پہلے ہی زمین تیار کرتے وقت ڈال دیں۔نائٹروجنی کھاد کی آدھی مقدار پہلے پانی پر اوربقایا آدھی کھاد دوسرے پانی پر دیں۔بارانی علاقوں میں ساری کھاد بوائی کے وقت ڈالیں۔
مونگ:
* مونگ کی کاشت کے لئے میرا زمین موزوں ہے۔جبکہ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین غیر موزوں ہے۔
* آبپاش علاقوں میں منظور شدہ اقسام نیاب مونگ2006 ، ازری مونگ2006 اور نیاب مونگ 2011-جبکہ بارانی علاقوں میں چکوال ایم6- کاشت کریں اورشرح بیج10 سے 12کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔۔
* جس کھیت میں مونگ کی فصل پہلی دفعہ کاشت کی جائے اس کے بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگانے سے پودوں کی نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔جراثیمی ٹیکے شعبہ ڈالیں اور شعبہ بیکٹریالوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اور قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر اسلام آباد سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
* بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے پر مونگ کی بوائی15جولائی تک مکمل کریں۔
* کاشت تر وترحالت میں کریں اورقطاروں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ رکھیں۔پودے سے پودے کافاصلہ 8انچ یا10سینٹی میٹر رکھیں۔
* ایک بوری ڈی اے پی +آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ بوقت کاشت ڈالیں۔
ماش:
* ماش کی کاشت کے لئے میرا زمین موزوں ہے۔جبکہ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین غیر موزوں ہے۔
* ماش کی ترقی دادہ اقسام چکوال ماش ، ماش 97-اورماش عروج 2011-کاشت کریں۔ان کی پیداواری صلاحیت 22من فی ایکڑ تک ہے۔زیادہ بارش والے علاقوں میں 8کلوگرام اور دوسرے علاقوں میں10کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔
* جولائی کا پورا مہینہ اس کی کاشت کے لیے مناسب ہے۔البتہ جولائی کا پہلا ہفتہ کاشت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
* کاشت تر وترحالت میں کریں اورقطاروں کا باہمی فاصلہ ایک فٹ رکھیں۔زیادہ بارش والے علاقوں میں کھیلیوں پر کاشت کریں۔
* ایک بوری ڈی اے پی +آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ بوقت کاشت ڈالیں۔
مکئی:
* مکئی کی کاشت کے لئے بھاری میرا زرخیز زمین موزوں ہے۔
* بارانی علاقوں میں مکئی مون سون شروع ہونے سے پہلے کاشت کریں تاکہ پودے جڑوں کا نظام قائم کر لیں اور مون سون کی بارشوں کا صحیح فائدہ اٹھا سکیں۔
* محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام ساہیوال2002-، اگیتی2002-،ایم ایم آر آئی ییلو،پرل ، ہائبرڈ ایف ایچ810- اور یوسف والا ہائبرڈکاشت کریں۔اس کے علاوہ پرائیویٹ کمپنیوں کے پاس بھی اچھے ہائبرڈ بیج موجود ہیں۔ اس لیے اچھی کمپنی کا تسلی بخش بیج خرید فرمائیں۔
* مکئی کی کاشت سنگل رو کاٹن ڈرل سے سوا دو سے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کریں۔
* شرح بیج ڈرل سے کاشت کے لئے 12تا 15 کلو گرام اور کھیلیوں پر کاشت کے لئے 8سے 10 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔شرح بیج کا انحصار بیج کے اُگاؤ ، بیج کے وزن اور طریقہ کاشت پر ہے۔
* درمیانی زمین میں بوائی کے وقت دو بوری ڈی اے پی اورڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑڈالیں جبکہ بارانی علاقوں میں ساری کھادایک بوری ڈی اے پی+ایک بوری یوریا +آدھی پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت کاشت ہی ڈال دیں۔
* موسمی مکئی کے لئے پودوں کی تعداد 26 سے 33 ہزار فی ایکڑ رکھیں اور کاشت ہمیشہ سیدھی قطاروں میں کریں۔
بارانی علاقوں میں مون سون بارشوں کے پانی کومحفوظ کرنا:
* پانی زراعت کی بنیادی ضرورت ہے ۔ آبپاش علاقہ جات ہوں یا بارانی ، پانی کے بغیر کاشتکاری کاتصور ہی بعید از قیاس ہے۔ خصوصاً بارانی علاقوں میں فصلوں کی کاشت کا تمام تر دارومدار باران رحمت کے نزول پر ہے موسمی پیشن گوئی کو مدنظر رکھیں۔بارانی علاقوں میں فصلات کی کامیاب کاشت اور زیادہ پیدوار کے حصول کے لیے بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور صحیح طریقہ سے استعمال کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں ہونے والی سالانہ بارشوں کا دو تہائی حصہ موسم گرما میں ایک تہائی حصہ موسم سرما میں موصول ہوتاہے۔لہٰذا حالیہ بارشوں کے پانی کو محفو ظ کرنے کے لیے ڈھلوان کی مخالف سمت گہرا ہل چلائیں ۔ کھیتوں کو ہموار رکھیں، وٹ بندی مضبوط کریں اور کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک ہو ۔ دیسی کھاد یا سبز کھاد کا استعمال بڑھایاجائے جس سے وتر زیادہ دیر تک محفوظ رہتاہے۔
باغات:
* ترشاوہ باغات کو 10تا15دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں بارش کی صورت میں وقفہ بڑھائیں اورپانی کے نکاس کا بندوبست کریں۔
* بورڈ و مکسچر کا سپرے کریں۔
* میٹھے کی فروخت کا بندوبست کریں۔
* کیڑے مار اور پھپھوند کش زہروں کا بندوبست کریں۔
* پیوند کاری کا عمل شروع کریں۔
* آم کے باغات کو 14دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں اوربارش کی صورت میں وقفہ بڑھائیں۔
* گرے ہوئے پھل کو اکٹھا کر کے زمین میں دبا دیں ۔
* کیڑوں کے حملہ کا جائزہ لیتے رہیں اور پھل اتارنے کا عمل مکمل ہونے تک پھل کی مکھی کے انسداد کی تدابیر جاری رکھیں۔
* شاخ تراشی کے آلات کا جائزہ لیں اور ان کو تیار کریں تیلے اور سکیلز کے لئے کیڑے مار زہر کا انتظام کریں اور اعلیٰ نسل کے پودوں کی خریداری کا انتظام کریں۔
سبزیات:
* سبزیات کو8تا10دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں البتہ کمزور زمین میں یہ وقفہ چار تا پانچ دن تک رکھیں۔
* بینگن اور بھنڈی پر ہڈا بیٹل ،سبز تیلہ اور جوؤں کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔
* گھیا کدو ، چپن کدو، حلوا کدو،کھیرا اورگھیا توری پر اگر کدو کی لال بھونڈی کا حملہ مشاہدہ میں آئے تو محکمہ زراعت (توسیع) کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب
زہر کا دھوڑا یا سپرے کریں۔