Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم اگست تا15 اگست 2014ء
Date 2014-08-01 - 2014-08-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم اگست تا15 اگست 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنا:
3 پانی زراعت کی بنیادی ضرورت ہے ۔آبپاش علاقہ جات ہوں یا بارانی، پانی کے بغیر کاشتکاری کا تصور ہی بعید از قیاس ہے۔ خصوصاًبارانی علاقوں میں فصلوں کی کاشت کا تمام تر دارومدار باران رحمت کے نزول پر ہے ۔ بارانی علاقوں میں فصلات کی کامیاب کاشت اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور صحیح طریقہ سے استعمال کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں ہونے والی سالانہ بارشوں کا دوتہائی حصہ موسم گرما میں اور ایک تہائی حصہ موسم سرما میں موصول ہوتا ہے۔ لہٰذاحالیہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ڈھلوان کی مخالف سمت گہر ا ہل چلائیں، کھیتوں کو ہموار رکھیں، وٹ بندی مضبوط کریں اور کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک ہوں۔دیسی کھاد یا سبز کھاد کا استعمال بڑھایا جائے جس سے وتر زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے۔
کپاس
3 حالیہ مون سون بارشوں کی وجہ سے جن کھیتوں میں پانی زیادہ کھڑا ہو جائے ان کے نکاس کا بروقت انتظام کریں۔اگر پانی کپاس کے کھیت سے باہر نہ نکالا جا سکتا ہو تو کھیت کے ایک طر ف لمبائی کے رُخ کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیں۔
3 مون سون بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں کو پانی دینے سے پہلے’’ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی‘‘ ضرور دیکھ لیں۔
3 آبپاشی واٹر سکاؤٹنگ کے بعد کریں یعنی پانی کی کمی کی علامات کھیت میں واضح ہونے سے پہلے آبپاشی کریں۔ان علامات میں پتوں کا نیلگوں ہونا، اوپر والی شاخوں کی درمیانی لمبائی میں کمی ، سفید پھول کا چوٹی پر آنا ، تنے کے اوپر کے حصے کا تیزی سے سرخ ہونا اور چوٹی کے پتوں کا کھردرا ہونا شامل ہیں۔
3 نائٹروجنی کھادکا استعمال زمین کی زرخیزی اورفصل کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں ۔
3 بارش کے بعد کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیاں بڑھ جاتیں ہیں۔ اس لیے ان کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں۔
3 زیادہ درجہ حرارت اورزیادہ ٹینڈوں کی وجہ سے کچھ بی ٹی اقسام کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جس جگہ زمین میں تجزیہ کے بعد بوران اور زنک کی کمی پائی گئی ہو تو وہاں بوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔
3 ضرورت سے زیادہ نائٹروجن کی کھاد، آبپاشی یا بارشوں کی وجہ سے فصل کی بڑھوتری زیادہ ہو رہی ہو تو میپی کواٹ کلورائیڈ بحساب 140ملی لیٹر فی ایکڑ تین مرتبہ دس دن کے وقفہ سے سپرے کریں۔
3 کپاس پرعلاقائی مناسبت اور بارشوں کی وجہ سے سفید مکھی ، سبز تیلا، تھرپس اور ملی بگ کا حملہ بڑھ رہا ہے اگر ان کیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔
3 اگر کپاس پر وائرس کا حملہ ہو جائے تو دل برداشتہ ہونے کی بجائے کپاس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دیں اورکھاد اور آبپاشی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماری کے مضر اثرات کم ہوں اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔
3 کپاس کی فصل میں ہفتے میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اگرکیڑوں کا حملہ نقصان کی معاشی حد تک ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے سپرے کریں۔
3 ایک ہی گروپ کی زہروں کا با ر بار سپرے نہ کیا جائے۔
3 سپرے صبح یا شام کے وقت کریں ۔دھوپ اور زیادہ گرمی میں سپرے کرنے سے زہر کی افادیت کم ہوجاتی ہے۔مزید یہ کہ پتوں کے جھلساؤ کا بھی خطرہ ہوتاہے ۔
3 اندھا دھند سپرے کرنے سے اجتناب کریں اور سپرے کرتے وقت حفاظتی اقدامات اختیارکیے جائیں تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔
دھان
3 دھان کی باسمتی اقسام کی پنیری کی منتقلی جلدازجلد مکمل کریں۔
3 پنیری کی منتقلی کے وقت کھیت میں 2 تا 3 انچ سے زیادہ پانی نہ کھڑا ہو۔
3 جن کھیتوں میں جڑی بوٹیاں وغیرہ ظاہر ہو جائیں وہاں اُن کو نکالنے کا مناسب انتظام کریں۔
3 زنک کی زیادہ کمی کی صورت میں لاب لگانے کے 10 تا 12 دن بعد تک زنک سلفیٹ33 فیصد ، 5 کلوگرام یازنک سلفیٹ 21 فیصد 10 کلو گرام فی ایکڑ چھٹہ دیں۔
3 لاب کی منتقلی کے 35 دن بعدنائٹروجنی کھاد کا بقیہ حصہ ڈالنے سے پہلے 4 ، 5 دن کیلئے فصل کو ہلکا سا سوکا دیں اس کے بعد کھاد کاچھٹہ دیکر پانی لگادیں۔
3 ٹیوب ویل کے ناقص پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں میں اچھے نتائج حاصل کرنے کے لیے جپسم کھادبحساب 5بوری فی ایکڑ چھٹہ دیں ۔
کماد
3 فصل کا باقاعدگی سے مشاہدہ کرتے رہیں اور اگر کہیں بوررکاحملہ نظر آئے تو متاثرہ پودوں کے دو یا تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر اکٹھا کر کے زمین میں دبا دیں۔
3 ستمبر کاشت کیلئے صحت مند بیج حاصل کرنے کیلئے بہتر کھیت کا چناؤ کریں۔
3 اگر کسی کھیت میں بیماری کا حملہ نظر آئے تو زرعی توسیع کے عملہ سے مشورہ کے بعد مناسب زہر کا سپرے کریں۔
مکئی
3 مکئی کی اگیتی اقسام کی کاشت 20 اگست تک مکمل کریں۔ جبکہ بارانی علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے مطابق کاشت کریں۔ یادرہے کہ موسم خزاں میں ہائبرڈ اقسام کا بہترین وقت کاشت شروع جولائی تاوسط اگست ہے۔
3 مکئی کی اچھی پیداوار کیلئے ڈرل کاشت کی صورت میں 12 تا 15کلوگرام، کھیلوں پر کاشت کی صورت میں 8تا10کلوگرا م اور بطور چارہ 40 تا 50 کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔
3 مکئی کی بہترین کاشت کے لیے (9 تا 12 گڈے) 3 تا 4 ٹرالی گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین کی تیاری کے وقت ضرور ڈالیں۔
3 آبپاش علاقوں میں فاسفورس اور پوٹاش کی ساری مقدار اور نائٹروجن کا1/5حصہ بوائی کے وقت ڈالیں جبکہ بارانی علاقوں میں ساری کھاد بوائی کے وقت ڈال دی جائے۔ مکئی کی اچھی اور زیادہ پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کریں۔
مونگ ماش
3 مونگ ماش کی اچھی پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی نہایت ضروری ہے ۔لہٰذا اس کو بروقت تلف کریں۔
3 مونگ ماش کی فصل کو 3پانی درکا رہیں۔پہلا پانی اگاؤ کے تین چار ہفتے بعد ،دوسراپانی پھول نکلنے پر اور تیسرا پانی پھلیاں نکلنے پر دیں۔اگر اس دوران بارش ہو جائے تو آبپاشی حسب ضرورت کریں ۔زیادہ بارش کی صورت میں زائد پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست کریں۔
3 مونگ ماش کی بیماریوں اور کیڑوں مکوڑوں کا تدارک محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کے مشورہ سے کریں۔
چارہ جات
جوار
3 چار ہ والی فصل کے لیے صحت مندبیج 32تا35 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔
3 بوقت کاشت 2 بوری نائٹروفاس +آدھی بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں ۔
3 جوار کی میٹھی اقسام جے ایس2002- ، ہیگاری اورجے ایس- 263، جوار2011 اور بارانی علاقہ جات کے لیے چکوال جوارکاشت کریں۔
3 گاچا کی کاشت جاری رکھیں۔ اگیتے کاشتہ گاچا کو 1189بوری یوریا، آبپاشی کے ساتھ ڈالیں۔
سبزیات
3 ٹماٹر اور گوبھی کی پنیری کی کاشت جاری رکھیں۔
3 ٹماٹر کی منظور شدہ اقسام روما، نگینہ، پاکٹ اور نقیب کاشت کریں۔
3 کاشتہ سبزیات کو 8 تا 10 دن کے وقفہ سے موسمی حالات کو مدنظررکھ کر آبپاشی کریں۔
باغات(آم)
3 آم کی برداشت صبح کے وقت کریں ۔ ناپختہ پھلوں کو توڑنے سے گریز کریں۔
3 آم کے نئے باغات کے لیے گڑھے کھودیں۔
3 آم کے باغات میں نائٹروجن کھاد کی آخری قسط ڈالنے کا بندوبست کریں۔
3 تیلے، سکیلز اور دوسرے کیڑوں کی صحیح شناخت کے بعد حملہ کی صورت میں سفارش کردہ زہریں سپرے کریں ۔
3 باغات والے کھیتوں سے بارش کے فالتو پانی کا نکاس کریں۔
ترشاوہ پھل
3 کاغذی لیموں اور میٹھے کی برداشت کریں۔
3 کھٹی کی نرسری لگائیں۔
3 اگست کے مہینہ میں بھی ترشاوہ باغات میں پھل کی بڑھوتری کا عمل جاری رہتا ہے۔ لہٰذا آبپاشی میں کمی نہ آنے دیں ۔ شدید گرمی کی صورت میں آبپاشی کا وقفہ کم کر دیں۔بارش کی صورت میں زیادہ پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کریں۔
3 ترشاوہ پودوں کو نائٹروجن کی تیسری قسط ڈالیں۔بہتر ہے کہ کھادوں کا استعمال تجزیہ زمین کے مطابق کریں۔
3 پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں نیز باغ میں پودوں کے ناغوں کا جائزہ لیں ۔
3 کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف باغات ؍ نرسری کو بمطابق حالات سپرے کریں۔
3 کئی دفعہ برسات کے موسم میں پودوں کے تنوں سے گوند نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔اس کو کسی تیز دھار آلہ سے اتار کر زخموں پربورڈوپیسٹ لگائیں۔
***