Advisory Detail

Title زرعی سفارشات 16 اگست تا31 اگست 2014ء
Date 2014-08-16 - 2014-08-31
Advisory Content

زرعی سفارشات
16 اگست تا31 اگست 2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
کپاس:
3 کپاس کے کھیتوں سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں۔اکثر جڑی بوٹیاں باغات ، کھالوں اور وٹوں پر ہوتی ہیں ان کو تلف کیا جائے۔
3 سفید مکھی کے مؤثر کنٹرول کے لیے سپرے طلوع آفتاب سے پہلے یا پھر سورج نکلنے کے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ بعد تک کریں۔
3 سفید مکھی کے کنٹرول کے لیے ایک ہی قسم کی زہر بار بار استعمال نہ کی جائے بلکہ بدل بدل کر استعمال کی جائے اور سپرے کے لیے پانی کی مقدار بڑھاتے جائیں۔
3 اگر خدانخواستہ کپاس پر وائرس کاحملہ ہو جائے تو دل برداشتہ ہونے کی بجائے کپاس کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دی جائے تاکہ بیماری کے مضر اثرات کم ہوں اور بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔
3 وائرس کے حملے کے آغاز سے اگر کھاد اور پانی کا استعمال مناسب طریقے سے کر کے پودے کی بڑھوتری کو تیز کر دیا جائے تو وائرس کے نقصانات کم ہو سکتے ہیں۔
3 اگیتی کاشت کی چنائی شروع ہو چکی ہے ۔چنائی کے بعد پھٹی کو ایک دو دھوپ ضرور لگوائیں تاکہ نمی کومناسب سطح پر لایا جا سکے۔
3 بارش کے دنوں میں چنائی نہ کریں بلکہ جب کپاس سوکھ جائے تو چنائی کریں۔
3 چنائی کے فوراََ بعد کپاس کو صاف اور خشک جگہ پر رکھیں
3 کپاس پر جراثیمی جھلساؤ کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے تدارک کریں۔
دھان
3 کھیتوں کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کریں۔
3 جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے زہروں کے استعمال کی صورت میں زہر ڈالنے کے ایک ہفتہ بعد تک کھیت سے پانی خشک نہ ہونے دیں۔
3 تنے کی سنڈیوں اور پتہ لپیٹ سنڈی کا حملہ اگست میں شروع ہوتا ہے اس لئے ہفتہ عشرہ کے وقفہ سے فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔
3 پیسٹ سکاؤٹنگ کرتے وقت ایک مربع میٹر کا چوکھٹااستعمال کریں اور کھیت کے سائز اور شکل کے مطابق چار مختلف مقامات کا انتخاب کریں۔پھر پودوں کی کل تعداد اور ان میں متاثرہ شاخیں نوٹ کریں اور حملہ فیصد معلوم کریں۔
3 اگر کیڑے کا حملہ معاشی حد تک پہنچ جائے تو زرعی توسیعی کارکن کے مشورہ سے بروقت تدارک کریں۔
کماد
3 گرداس پور بورر کا حملہ چونکہ ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے لہذا ماہ اگست میں فصل کا باقاعدگی سے مشاہدہ کرتے رہیں اور اگر کہیں حملہ نظر آئے تو حملہ شدہ پودوں کے متاثرہ حصہ سے دو یا تین پوریاں نیچے سے کاٹ کر اکٹھا کر کے جانوروں کو کھلائیں یا زمین میں دبا دیں۔
3 ستمبر کاشت کے لئے صحت مند بیج حاصل کر نے کے لئے بہتر کھیت کا چناؤ کریں۔
3 اگر کسی کھیت میں بیماری کا حملہ نظر آئے تو زرعی توسیعی عملہ سے مشورہ کے بعد سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں۔
مکئی
3 سنتھیٹک اقسام کے لیےآبپاش علاقوں میں درمیانی ذرخیز زمین کے لئے دو بوری ڈی اے پی +ڈیرھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ +18%ڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ+پونی بوری یوریا بوقت کاشت فی ایکڑ ڈالیں۔
3 بارانی علاقوں میں ساری کھاد بوائی کے وقت ڈالیں۔
3 کونپل کی مکھی کے حملہ کی صورت میں محکمہ زراعت کے توسیعی کارکن سے مشورہ کر کے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔
3 موسمی حالات کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے آبپاشی کریں البتہ اگر کہیں بارش کا پانی زیادہ کھڑا ہو جائے تو فالتو پانی فوراََ کھیت سے نکا ل دیں۔
مونگ /ماش
3 مونگ ماش کی اچھی پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی نہایت ضروری ہے ۔لہٰذا اس کو بروقت تلف کریں۔
3 مونگ ماش کی فصل کو 3پانی درکا رہیں۔پہلا پانی اگاؤ کے 3ہفتہ بعد ،دوسراپانی پھول نکلنے پر اور تیسرا پانی پھلیاں نکلنے پر دیں۔اگر اس دوران بارش ہو جائے تو آبپاشی حسب ضرورت کریں ۔زیادہ بارش کی صورت میں زائد پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست کریں۔
3 مونگ ماش کی بیماریوں اور کیڑوں مکوڑوں کے تدارک کے لیے مناسب حکمت عملی اپنائیں۔
سبزیات
3 ٹماٹر اور گوبھی کی پنیری کی کاشت جاری رکھیں۔
3 ٹماٹر کی منظور شدہ اقسام روما،نگینہ ،پاکٹ اور نقیب کاشت کریں۔
3 کاشتہ سبزیات کی موسمی حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آبپاشی کریں۔
باغات (ترشاوہ پھل)
3 کاغذی لیموں اور میٹھے کی برداشت کریں۔
3 کھٹی کی نرسری کے لئے یہ موزوں وقت ہے۔صحت مندپھل اکٹھا کریں بیج نکالیں اور پانی سے دھوئیں سائے میں خشک کر یں اور بجائی کر دیں۔
3 نئے پودے لگانے کے لئے 3x3x3 مکعب فٹ کے گڑھے کھودیں اور دو ہفتے کھلے رکھیں۔
3 پودوں کو اگست میں نائٹروجن کی تیسری قسط ڈالیں۔
3 میٹھے کا پھل برداشت کرنے کے بعد 1کلو گرام یوریا1+کلو گرام ڈی اے پی اور 1کلو گرام پوٹاش فی پودا ڈالیں اور تنے سے پودے کے پھیلاؤ کے برابر دائرہ میں کھاد ڈالیں۔
3 موسمی حالات کے پیشِ نظر آبپاشی کریں۔
3 کیڑوں اور بیماریوں کا مربوط طریقہ سے حالات کے مطابق تدارک کریں۔
3 باغ میں پودوں کے ناغوں کا جائزہ لیں پیوند کاری کی تیاری کریں۔
3 برسات کے موسم میں اکثرپودوں کے تنوں سے گوند نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔اس کو کسی تیز دھار آلہ سے اُتار کر زخموں پربورڈوپیسٹ لگائیں۔

آم
3 پچھیتی اقسام کے پھل کی برداشت جاری رکھیں۔ناپختہ پھلوں کو توڑنے سے گریز کریں۔
3 نئے باغ لگانے کے لئے گڑھے کھودیں۔
3 نائٹروجنی کھاد 1کلو گرام (یوریا) فی پوداکی تیسری اور آخری قسط ڈالیں۔
3 برداشت سے د و ہفتہ قبل تک آبپاشی جاری رکھیں۔
3 کیڑوں کا مکمل جائزہ لیتے رہیں تیلے اور سکیلز موسم متعدل ہونے پر دو بارہ نمودار ہو سکتے ہیں ضروری ہو تو سپرے کریں۔
3 جڑی بوٹی مار زہروں کا انتظام کریں۔
انتباہ برائے پارتھینیم(گاجر بوٹی)

بارانی علاقوں میں وتر محفوظ کرنا
بارانی علاقوں میں ہونے والی سالانہ بارشوں کا دوتہائی حصہ موسم گرما میں اور ایک تہائی حصہ موسم سرما میں موصول ہوتا ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں خریف کی فصلیں تو ان بارشوں سے براہ راست مستفیدہوتی ہیں جبکہ ربیع کی فصلیں موسم گرما کی بارشوں کے محفوظ کردہ وتر میں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان سے بہتر پیداوار کا حصول اسی بات پر منحصر ہے کہ ایسے مؤثر طریقے اختیار کیے جائیں کہ موسم گرما کی بارشوں کا پانی بہہ کر ضائع ہونے کی بجائے زیادہ سے زیادہ زمین میں جذب ہو کر تا دیر محفوظ کر لیا جائے تو ربیع کی فصلوں کی پیداوار 20تا25فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے مون سون بارشیں شروع ہونے سے پہلے زرعی ماہرین کے تجویز کردہ طریقوں مثلاً گہر اہل چلانا ، وٹ بندی مضبوط کرنا، ہمواری زمین اور ڈھلوان سطح کی مخالف سمت میں ہل چلانے پر عمل کریں۔
بارانی علاقوں کے چارے
پنجاب میں موجود بارانی علاقے دو طرح کے خطوں پر مشتمل ہے ایک میدانی خطہ جہاں نہری نظام موجود نہیں اور دوسرا خطہ پوٹھوہار موسم خریف میں کاشتکار جوار، باجرہ، مکئی، سدابہار ماٹ گراس، رواں، گوارہ اور مخلوط چارے کا شت کر سکتے ہیں۔ خط پوٹھوہار کا موسم گرمیوں میں نسبتاً معتدل اور سردیوں میں زیادہ شدید سرد ہوتاہے۔ کہیں زیر زمین پانی میسر ہوتاہے اور کہیں میسر نہیں۔ پوٹھوہار کی عمومی زمینوں اور آبپاشی کے پانی کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم خریف میں جوار، باجرہ اور گوارہ کی کاشت اور اس کی مناسب دیکھ بھال کم لاگت میں چارے کی بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔