Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم دسمبرتا15دسمبر2014ء
Date 2014-12-01 - 2014-12-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم دسمبرتا15دسمبر2014ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
(1)گندم:
-1 گندم کی پچھیتی کاشت ہر صورت 15دسمبر سے پہلے مکمل کریں اور غیر معمولی تاخیر سے بچنے کے لیے جہاں ضروری ہو خشک بوائی کریں۔
-2 اگر ناگزیر وجوہات کی وجہ سے گندم کی پچھیتی کاشت کرنی پڑے تو آبپاش علاقوں کے لیے فرید2006، معراج2008، فیصل آباد2008،لاثانی 2008،این اے آر سی 2011،آری2011، پنجاب 2011،ملت2011اور آس2011کاشت کریں۔ ان اقسام کی کاشت دسمبر کے اوائل تک کی جا سکتی ہے۔
-3 گندم کی مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بیج کو بوائی سے پہلے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے پھپھوندی کش زہر لگائیں۔
-4 گندم کو کالے تیلے سے بچانے اور خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کے لیے کینولہ /سرسوں کی کم از کم 2لائنیں ایک ایکڑ میں ضروری لگائیں۔
-5 آبپاش علاقوں میں محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام پاسبان 90، سحر 2006، شفق2006، فرید2006، معراج 2008، لاثانی 2008-، فیصل آباد 2008-، ملت2011، این اے آر سی2011 ، آری 2011 ، آس 2011اورپنجاب 2011 کاشت کریں۔بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈپوؤں یا مستند ڈیلروں سے حاصل کریں۔
-6 آبپاش علاقوں میں کمزور زمین میں 2بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ اوسط زمین میں1189بوری ڈی اے پی+ آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ اورزرخیز زمین کے لیے ایک بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریااور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکٹر بوقت کاشت استعمال کریں۔
-7 بارانی علاقہ جات میں جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوارکوشدیدمتاثر کرتی ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ بوائی کے بعد اگر 18تا 20دن کے اندربارش ہو جائے تو کھیت وتر آنے پر دوہری بارہیرو چلائی جائے۔ اس سے جڑی بوٹیاں بہت حدتک تلف ہو جاتی ہیں اور زمین میں وتر بھی دیر تک قائم رہتا ہے۔ یافصل کے اگاؤ کے بعد کھرپے یا کسولے کی مدد سے خشک گوڈی کرکے فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں بارانی علاقہ کے کاشتکاروں کی توجہ مرکوز کروائیں۔
خصوصی توجہ:
گندم کی فصل سے بہتر پیداوار لینے کے لیے اس کی کاشت کا موزوں ترین وقت نومبر کے پہلے دوہفتے ہوتاہے۔ محکمہ زراعت (توسیع اور ریسرچ) کی تحقیق کے مطابق 20نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز تقریباً 1فیصد کے حساب سے 15تا20کلوگرام فی ایکڑ پیداوار میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری فصل تقریباً جنوری کے شروع تک کاشت ہوتی رہتی ہے۔ جس سے پیداوار میں 50فیصد تک کمی ہو جاتی ہے۔ اس لیے کاشتکاروں کو مشورہ دیاجاتاہے کہ وہ پوری کوشش کر کے گندم کو بروقت کاشت کریں۔ اگر پچھیتی کاشت کوشرح بیج میں اضافہ کے ساتھ ایک بھی ہفتہ پہلے کاشت کر لیا جائے تو پیداوارمیں کافی اضافہ کیا جا سکتا ہے جوکہ کاشتکاروں اورملک دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
-7 کپاس، مکئی اورکماد کے بعدکاشت کی جانے والی گندم کو پہلا پانی کاشت کے 20تا25دن بعد اوردھان کے بعد کاشتہ فصل کو 30تا40دن بعد لگائیں۔
-8 گندم کو ایک بوری یوریا فی ایکٹر پہلے پانی کے ساتھ ڈالیں۔
-9 جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے کھیت کے معائنہ کے بعد محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب وقت پر جڑی بوٹی مار زہروں کا سپرے کریں۔
-9 پہلی آبپاشی کے بعد کھیت وتر حالت میں آنے پر دوہری بار ہیرو چلائیں۔
(2)کماد:
-1 فصل کی کٹائی جاری رکھیں۔فصل کی کٹائی سے 20تا25دن قبل پانی دینا بند کردیں۔فصل کی کٹائی سطح زمین سے ایک انچ گہرا کریں۔ اس سے زیر زمین پوریوں پر موجود آنکھیں زیادہ صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔ نیچے سے کاٹنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ مڈھوں میں موجود گٹروؤں کی سنڈیاں تلف ہو جاتی ہیں۔
-2 کماد کی کٹائی ،گنے کی اقسام اور فصل کے پکنے کو مد نظر رکھ کر کریں۔ ستمبر کاشت ، موہڈھی فصل اور اگیتی پکنے والی اقسام پہلے برداشت کریں۔ اس کے بعد درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام کی برداشت کریں۔
-3 گنا کاٹنے کے بعد جلد از جلد مل کو سپلائی کریں تاکہ وزن اور ریکوری میں کمی نہ آئے۔
-4 موہڈھی فصل رکھنے کے لیے کماد کو 15جنوری کے بعد کاٹیں۔
-5 جن کھیتوں میں موہڈھی فصل نہ رکھنی ہو اس کھیت کو فوراً تیار کر کے گندم کی کاشت کریں۔
(3)دھان:
-1 کٹائی اور پھنڈائی کا عمل جاری رکھیں۔کوشش کریں جتنے رقبے سے فصل کاٹی جائے اس کی پھنڈائی اسی دن مکمل کریں۔رات کے وقت مونجی کی ڈھیری کو پرالی یا ترپال سے ڈھانپ دیں۔
-2 مونجی کو گوداموں میں ذخیرہ کرنے سے پہلے اس کو اچھی طرح خشک کر لیں۔
(4)کپاس:
-1 چنائی صبح دس بجے کے بعد شروع کریں اور شام چار بجے بند کردیں۔
-2 صرف اچھی طرح کھلے ہوئے ٹینڈوں سے چنائی کریں۔
-3 چنی ہوئی کپاس خشک جگہ پر رکھیں اور ہر قسم کی کپاس کو الگ الگ رکھیں۔
-4 آخری چنائی والی کپاس کا ریشہ کمزور اور بنولہ بھی بیج کے قابل نہیں رہتا لہٰذا آخری چنائی کو الگ رکھیں اور اس سے بیج نہ بنائیں۔
-5 کپاس کی مختلف اقسام الگ الگ گوداموں میں رکھیں تاکہ مختلف اقسام کے ریشے اور بیج کی کوالٹی آپس میں مل کر متاثر نہ ہونے پائے۔
-6 کپاس کی آخری چنائی کے بعد اس کھیت میں بھیڑ بکریاں چھوڑ دیں تاکہ وہ بچے کھچے ٹینڈے وغیرہ کھالیں اور ان میں موجود سنڈیاں خصوصاً گلابی سنڈی وغیرہ تلف ہو جائے۔
-7 کپاس کی آخر ی چنائی کے بعد چھڑیوں کو روٹا ویٹر کی مدد سے کھیت میں دبا دیں۔
-8 کپاس میں نمی ہونے کی صورت میں کپاس کو باہر دھوپ میں خشک کر کے پھر سٹور کریں ۔ سٹور ہوادار ،فرش پختہ اور خشک ہونا چاہئے۔
(5)سورج مکھی:
جب پھول کی پشت کا رنگ سبز سے سنہری ہوجائے اورپھولوں کی زرد پتیاں خشک ہو جائیں تو فصل برداشت کے لیے تیار ہوتی ہے۔ درانتی سے فصل کو کاٹ لیں اور دوتین دن تک دھوپ میں پھیلا دیں اور گہائی کریں نیز سورج مکھی کے بیج کو مناسب جگہ پر خشک کر کے گودام میں رکھیں۔ مشینی برداشت کی صورت میں فصل کو تھوڑا سازیادہ پکنے دیں۔
(6) دالیں:
-1 مسور اور چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کا عمل جاری رکھیں۔
-2 چنے کی فصل پر اگر سنڈی کا حملہ نظر آئے تومحکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے زہر پاشی کریں۔
(7)روغن داراجناس:
پیلا توریا، رایا ایل، سرسوں، تارامیرا اوررایا انمول پر تیلہ کا حملہ نظر آئے تو محکمہ زراعت کے زرعی ماہرین سے مشور ہ کر کے زہر پاشی کریں۔
(8)چارہ جات:
-1 برسیم کی کاشت زیادہ سے زیادہ 15دسمبر تک مکمل کریں۔ شرح بیج 8کلوگرام فی ایکٹر رکھیں۔ایک بوری ڈی اے پی +ڈیڑھ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکٹر بوقت کاشت ڈالیں۔اگر بوائی بذریعہ چھٹہ کھڑے پانی میں کی گئی ہے تو پہلا پانی بوائی کے 7دن بعد دینا چاہیے تاکہ اگاؤ اچھا ہو جائے بعد میں پانی حسب ضرورت لگائیں۔
-2 لوسرن کی فصل کو پہلا پانی بوائی کے 3ہفتہ بعد اور پھر پانی حسب ضرورت دیں۔چھٹہ کے ذریعہ بوائی کی صورت میں اگر اگاؤ کم ہو تو پہلا پانی جلدی دے دینا چاہیے۔
-3 برسیم کے بیج کو بوائی سے پہلے جراثیمی ٹیکہ لگائیں یا پچھلے سال والے برسیم کے کھیت سے 80کلوگرام مفید جراثیم والی مٹی لاکرایک ایکڑ کے کھیت میں مکس کریں۔
(9) سبزیات:
-1 آبپاشی کا خیال رکھیں۔ گوڈی کریں۔
-2 نومبر میں کاشتہ ٹماٹر اور پیاز کی پنیری کو کھیت میں منتقل کریں۔
-3 چھوٹی نازک سبزیوں کو سردی سے بچانے کا بندوبست کریں۔
-4 آلو کی فصل کا معائنہ کرتے رہیں ۔ بیماری یا کیڑے کے حملے کی صورت میں محکمہ زراعت کے عملے سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا بروقت سپرے کریں۔
-5 بیج کے لیے آلو کی مخصوص فصل کا معائنہ باقاعدگی سے جاری رکھیں ۔ وائرس سے متاثرہ اور دوسری اقسام کے پودوں کو احتیاط سے اکھاڑ کر ضائع کر دیں۔
ٹنل ٹیکنالوجی:
-1 ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال بذریعہ ڈرپ ایریگشن کریں۔
-2 سپرے کرنے اورکھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیداہوکر نقصان نہ پہنچائے۔
-3 دن کے وقت تقریباً 9بجے صبح سے 4بجے شام تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلارکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہواخارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan)لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جا سکے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جا سکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15سے30درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔
-4 بیلوں والی سبزیوں میں نر اورمادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے ان میں اخلاط نسل خود بخود نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ کام ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ یہ عمل ٹنل کے پلاسٹک اتارنے تک جاری رکھیں۔ پلاسٹک اتارنے کے بعد یہ کام مکھیاں سرانجام دیتی ہیں۔
-5 پودوں کی ترتیب ،کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا خیال رکھیں۔
(10) باغات:
-1 باغات کو کورے سے بچائیں۔کورے اور سردی سے بچاؤ کے لیے چھوٹے پودوں پر سایہ کریں۔
-2 رات کے وقت باغ یا نرسری میں دھونی دیتے رہیں۔
-3 کورے والی راتوں میں باغات کو پانی دیں۔
-4 ترشاوہ باغات میں پھل کی برداشت جاری رکھیں۔
-5 گوبر کی گلی سٹری کھاد 40تا50کلوگرام، سنگل سپر فاسفیٹ2.5کلوگرام ، پوٹاشیم سلفیٹ 1کلو گرام اور زنک سلفیٹ200گرام فی پودا ڈالیں۔
-6 ایک ماہ کے وقفہ سے آبپاشی کریں۔
-7 گدھیڑی کے خلاف آم کے درختوں پر حفاظتی بند لگائیں اور زمینی کنٹرول کریں ۔ پودے کے نیچے گوڈی کر کے زمین پر محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کر کے مناسب زہر کا دھوڑا کریں۔