Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم مارچ تا15مارچ 2015ء
Date 2015-03-01 - 2015-03-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم مارچ تا15مارچ 2015ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
گندم کو تیسرا پانی بجائی کے 125تا130دن بعد لگائیں ۔ یہ وقت ہوتا ہے سٹے میں دانے بننے اور بھرنے کا۔اگر اس مرحلے پر پانی نہ دیا جائے یا تاخیر سے دیا جائے تو دانے کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے اور پیداوار میں کمی واقع ہو جا تی ہے۔
فصل پر چوہوں کے حملے کی صورت میں ان کی تلفی کے لیے زنک فاسفائیڈ کی گولیاں یا ڈیٹیا گیس کی ٹکیاں استعمال کریں۔ ایک حصہ زنک فاسفائیڈ کو 20حصے آٹے میں ملا کر چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائیں اور چوہوں کے بلوں کے پاس کھیتوں میں رکھ دیں۔ ان کوکھانے سے چوہے تلف ہو جائیں گے یا پھر ڈیٹیا گیس کی ایک ٹکی ایک بل میں رکھ کر بل کو مٹی سے بند کر دیں۔ زہریلی گیس نکل کر چوہے کو بل کے اندر ہی ختم کر دے گی۔
گندم پر سست تیلے کا حملہ عام طور پر فروری کے آخر میں شرو ع ہو جاتا ہے اور مارچ کے آخر تک شدت اختیار کر جاتا ہے۔ گندم پر سست تیلے کے خلاف زرعی زہریں ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ اس کے بہت برے اثرات ہیں جن میں ماحول کاآلودہ ہونا ،صحت کے مسائل اور مفید کیڑوں کا ختم ہو نا شامل ہے۔
کماد
کماد کی بہتر پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی میرااوربھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔
کماد کو مونجی اورکماد کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔
ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو تلف کیا جائے اس کے بعد 10تا12انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کرلیں۔
گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کو گہری جوتائی اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 10تا12انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔
ہمیشہ صحت مند بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا اتنخاب کریں ۔ بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال دیں۔
لیری(یکسالہ) فصل سے بیج منتخب کریں۔موڈھی فصل سے بیج نہ لیں۔
سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہوناچاہیے اس سے دیمک لگنے کا احتمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ غلاف اُتارتے وقت آنکھوں کو زخمی نہ ہونے دیں ورنہ اگاؤ کم ہوگا۔
سموں کو پھپھوندکش زہروں کے محلول میں 3تا5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔
بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ چار آنکھوں والے 13تا15ہزارسمے یاتین آنکھوں والے 17تا20ہزار سمے یا 100 تا 120 من بیج ڈالنا چاہیے۔
ترقی دادہ اقسام
اگیتی اقسام : سی پی 77-400، سی پی ایف237، ایچ ایس ایف240، ایچ ایس ایف 242اور سی پی ایف243۔
درمیانی اقسام : ایس پی ایف213، ایس پی ایف234،ایس پی ایف245، سی پی ایف246،سی پی ایف247 اورسی پی ایف 248۔
پچھیتی اقسام : سی او جے84۔
نوٹ: غیر منظورشدہ اور ممنوعہ اقسام بی ایف162-، ایس پی ایف238-، ایس پی ایف 241-،سی پی ایف 239-، سی او1148-(انڈین)، ایل116-، ایل118-، بی ایل4-، سی اوایل44-، سی او ایل29-، سی اوایل54-اور ٹرائی ٹان ہرگز کاشت نہ کریں۔
کماد کا وقت کاشت فروری کے پہلے ہفتہ سے مارچ کے وسط تک ہے۔
زرخیز زمین کے لیے2189بوری یوریا1+بوری ڈی اے پی اور1بوری پوٹاشیم سلفیٹ ،درمیانی زمین کے لیے 188 3بوری یوریا2+ڈی اے پی بوری اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ اورکمزور زمین کے لیے 4بوری یوریا3+بوری ڈی اے پی اور 2بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑڈالیں۔
فاسفورس اور پوٹاش کی کل مقدار بوائی سے قبل سیاڑوں میں ڈال دی جائے جبکہ نائٹروجن اُگاؤ کے بعد تین اقساط میں ڈالیں۔
زمین کی زرخیزی بحال رکھنے کے لئے کیمیائی کھادوں کے علاوہ تین تا چار ٹرالیاں گوبر کی گلی سڑی کھاد ضرور ڈالیں تاہم یہ کام بوائی سے ایک ماہ پہلے کرنا چاہئے تاکہ گوبر کی کھاد زمین میں اچھی طرح مل جائے۔
کماد کی موڈھی فصل
آخر جنوری سے شروع مارچ تک موڈھی فصل رکھنے کے لیے موسم بہت مفید ہے۔ اس وقت رکھی گئی موڈھی فصل سے شگوفے خوب پھوٹتے ہیں اور پودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔
نومبر ، دسمبر اور شروع جنوری کے دوران رکھی گئی موڈھی فصل زیادہ جھاڑ نہیں بناتی کیونکہ سردی کی شدت کی وجہ سے مڈھوں میں خفیہ آنکھیں مر جاتی ہیں اور کچھ مڈھ زمین میں پڑے گل جاتے ہیں ۔ گری ہوئی فصل کی موڈھی نہیں رکھنی چاہیے یہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔
گنا سطح زمین سے ایک ڈیڑھ انچ نیچے یا زمین کے برابر کاٹا جائے ۔ اس سے زیر زمین پڑی آنکھیں صحت مند ماحول میں پھوٹتی ہیں۔
کماد کے کھیت میں کیڑوں کے حملے ، بیماری لگنے اور ہل چلاتے ہوئے مڈھ اکھڑنے سے ناغے آ جاتے ہیں۔سردی کی شدت سے بھی مڈھ مر سکتے ہیں۔اس لیے ناغوں کا پُر کرنا بہت ضروری ہے ۔ گنے کے اسی قسم کے مڈھ لاکر ناغے پُر کریں۔
موڈھی فصل کو کھاد کی ضرورت لیرا فصل کی نسبت زیاد ہ ہوتی ہے لہٰذا موڈھی فصل کو سفارش کردہ مقدار سے 30فیصد زیادہ کھاد دینی چاہیے۔
آئندہ موڈھی فصل کی پیش بندی سابقہ فصل کی ظاہر ی صحت ، پودوں کا جھاڑ، زمینی ساخت اور زرخیزی کو ذہن میں رکھ کر کرنی چاہیے۔
مکئی(بہاریہ کاشت)
مکئی کی کاشت کے لئے بھاری میرا زرخیز زمین بہت موزوں ہے۔ ریتلی سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اس کی کاشت کے لئے موزوں نہیں۔
مکئی کی بہاریہ کاشت کے لئے زمین اچھی طرح تیار کریں بہتر تیاری کے لئے تین تا چار مرتبہ ہل اور سہاگہ دیں کھیت کی ہمواری کا خصوصی طور پر خیال رکھیں۔
تمام میدانی علاقوں میں بہاریہ مکئی کی بوائی کے لئے موزوں ترین وقت 15 جنوری سے فروری کے آخر تک ہے جبکہ راولپنڈی ڈویژن (ماسوائے پہاڑی علاقے ) آخری فروری تا 20مارچ ہے۔لہٰذا اس دورانیے میں اس کی کاشت کو مکمل کریں۔
بہاریہ مکئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے سفارش کر دہ ہائبرڈ اقسام کاشت کریں۔
ڈرل سے کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 12سے 15 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں ۔ وٹوں پر کاشت کرنے کی صورت میں شرح بیج 8 تا 10 کلو گرام فی ایکڑ رکھیں۔
ہائبرڈ اقسام کے لیے کمزور زمین میں تین بوری ڈی اے پی اور دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ، درمیانی زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اورڈیڑھ بوری پوٹاشیم سلفیٹ اور زرخیز زمین میں دو بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری یوریا اورایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔
سورج مکھی
بہاریہ سورج مکھی کی کاشت اس پندھرواڑے میں مکمل کریں دیر سے بوئی گئی فصل کی پیداوار کم ہوتی ہے۔
ایسی زمین جس میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو اور زیادہ ریتلی اور کلراٹھی نہ ہو اس فصل کے لئے موزوں ہے۔
زمین کو اچھی طرح ہموار کر لینا چاہیے تاکہ آبپاشی میں آسانی ہو ۔ ہموار زمین کو بوائی سے پہلے گہرا ہل چلا کر تیار کریں۔
فصل کی بوائی کے لئے بیج کی قسم کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ قسم آپ کے علاقہ میں اچھی پیداوار دے سکتی ہے یا کہ نہیں اس سلسلہ میں اپنے علاقہ کے محکمہ زراعت کے عملہ سے مشورہ کریں اور ان کی سفارشات کے مطابق قسم کا چناؤ کریں۔
اچھے اگاؤ کادو تا اڑھائی کلو گرام بیج فی ایکڑ کافی ہے اگر اگاؤ کی شرح کم ہو تو بیج کی مقدار اسی حساب سے بڑھا دیں۔
فصل قطاروں میں کاشت کریں قطاروں کا درمیانی فاصلہ سوا دو فٹ سے اڑھائی فٹ رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ آبپاش علاقوں میں 9 انچ اور بارانی علاقوں میں ایک فٹ رکھیں۔
بہاریہ مونگ
مونگ کی کاشت مارچ کے پہلے ہفتہ سے آخر مارچ تک کی جا سکتی ہے البتہ مارچ کا پہلا پندھرواڑہ اس کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔
اچھی پیداوار کے حصول کے لیے آبپاش علاقوں میں منظورشدہ اقسام نیاب مونگ 2006- اور ازری مونگ 2006-اور نیاب مونگ2011جبکہ بارانی علاقوں میں چکوالM-6کاشت کریں۔
شرح بیج 10تا 12کلوگرام فی ایکٹر استعمال کریں۔
بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے فصل کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
بجائی ہمیشہ تر وتر حالت میں کریں تاکہ اُگاؤ بہتر ہو ۔ بجائی قطاروں میں کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ رکھیں اور پودوں کاآپس میں درمیانی فاصلہ 8تا10سینٹی میٹر ہونا چاہیے۔
مونگ کے لیے ایک بوری ڈی اے پی آدھی بوری پوٹاشم سلفیٹ بجائی سے پہلے آخری ہل کے بعد چھٹہ کر کے سہاگہ دیں۔
مونگ پھلی
مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری کریں ۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں آخرمارچ تا آخراپریل میں کرنی چاہیے۔
چارہ جات
برسیم اورلوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کو ہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔
اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اور لوسرن کی کٹائی کے بعدآدھی بوری یوریا فی ایکڑ بوقت آبپاشی ڈالیں۔
خریف چارہ جات میں جوار (چری) ، سدابہار، باجرہ، مکئی ، گوارا، رواں، ماٹ گراس ، روڈزگراس، گنی گھاس، کلرگھاس اورجنتر وغیرہ بروقت کاشت کر کے مویشیوں کے لیے چارہ کی کمی کو پورا کریں۔
خریف چارہ جات مارچ سے اگست تک حسب ضرورت کاشت کیے جاسکتے ہیں۔
سدا بہار چارہ کی کاشت 15مارچ تک مکمل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ کٹائیاں حاصل ہوں۔
سدا بہار کو ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر بذریعہ ڈرل لائنوں میں کاشت کریں ۔بیج زیادہ گہرا نہ ڈالیں ورنہ اُگاؤ متاثر ہو گا۔
سبزیات
موسم سرما کی کاشتہ سبزیات کی آبپاشی کا خیال رکھیں ۔
موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، کالی توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھے نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میں ملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔
بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ۔ کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں اور بیج کی شرح اُگاؤ 80فیصد ے کم نہ ہو۔
ٹماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کریں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوں جانب کریں۔
باغات
ترشاوہ پھل
جن پودوں کا پھل برداشت کر لیا گیا ہے ان پودوں کے درمیان احتیاط سے ہل چلائیں تاکہ پودوں کا نقصان نہ ہو۔
جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لیے سپرے کریں ۔کینواور ویلنشیالیٹ کی برداشت کریں۔
مختلف اقسام کی ترشاوہ پھلوں کی پیوندکاری کریں۔ گرے ہوئے بیمار پھل زمین میں دبا دیں۔
باغات اور نرسری کو رس چوسنے والے کیڑوں مثلاً سٹرس سلا، سفید مکھی، پھل کی مکھی اور لیف مائنر کے خلاف سپرے کریں۔پھل کی مکھی کے انسداد کے لیے جنسی پھندے لگائیں۔
آم
آم کے باغات میں بٹور والے پھولوں کو سبز حالت میں خشک ہونے سے پہلے کاٹ کر تلف کریں ۔
مکمل پھول آنے پر یوریا کھاد ایک کلوگرام فی پودا ڈالیں۔
پھل آنے پر آبپاشی اشد ضروری ہے۔ آبپاشی کا وقفہ 20دنوں کا رکھیں جس کاانحصار موسم کی کیفیت پر ہے۔