Advisory Detail

Title زرعی سفارشات یکم اپریل تا 15 اپریل 2015ء
Date 2015-04-01 - 2015-03-15
Advisory Content

زرعی سفارشات
یکم اپریل تا 15 اپریل 2015ء
ڈاکٹر محمد انجم علی
ڈائریکٹر جنر ل زراعت
(توسیع وتطبیقی تحقیق)پنجاب، لاہور
گندم
گندم کی فصل آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس لیے فصل کی بروقت سنبھال کے لیے کٹائی و گہائی سے پہلے ہی مزدوروں ، تھریشر، ٹریکٹر، ترپال یا پلاسٹک چادر اور کمبائن ہارویسٹر کا انتظام کرلیں۔
گندم کی کٹائی فصل پوری طرح پکنے پر کریں۔
بارش ہونے کی صورت میں کٹائی روک دیں اور اس وقت تک دوبارہ شرع نہ کریں جب تک موسم بہتر نہ ہو جائے۔ کٹائی کے بعد بھریاں قدرے چھوٹی باندھیں اور سٹوں کا رخ ایک ہی طرف رکھیں۔ کھلواڑے چھوٹے رکھیں اور اونچے کھیتوں میں کھلیان لگائیں اور کھلواڑوں کے ارد گرد کھائی ضرور بنائی جائے۔
کٹائی کی تیاری کے دوران کوشش کی جائے کہ اگلے سال کے لیے بیج کی تیاری اسی شاندار فصل سے ہو جائے۔ اس کے لیے فصل کو برداشت سے پہلے جڑی بوٹیوں، کانگیاری اور غیر اقسام کے پودوں سے صاف کر لیں اور فصل کی ہر قسم کے لیے علیحدہ علیحدہ کھلیان لگائیں۔ گہائی سے پہلے اور بعد میں تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر اچھی طرح صاف کر لیں اور پہلی ایک یا دو بوریوں کا بیج نہ رکھیں۔ بوری میں بیج ڈالتے وقت گندم کی قسم کا نام ضرور لکھیں۔ بیج کے لیے محفوظ کیے جانے والے دانوں میں نمی زیادہ سے زیادہ 10تک فیصد ہونی چاہیے۔
اپنی فصل کی سنبھال اور ذخیرہ کا بھرپور انتظام کریں تاکہ یہ سنہری دانہ جو آپ نے سخت محنت سے پیدا کیا ہے۔ بالکل ضائع نہ ہو اور آپ کی خوشحالی اور خوش بختی کے ساتھ ساتھ قوم و ملک کی معاشی بحالی کا ذریعہ بنے۔
کپاس
بی ٹی اقسام:
کپا س کی بی ٹی اقسام ٹارزن1-، ایم این ایچ886-، وی ایچ 259-، بی ایچ178-، سی آئی ایم599-، سی آئی ایم602-، ایف ایچ142-، آئی آر نیاب 824-، آئی یو بی 222-،سائبان 201-، ستارہ 11ایم، کے زیڈ181-،ٹارزن2- ،سی اے 12-، ایف ایچ 114-اور سی آئی ایم598- (15مارچ سے 15مئی ) تک کاشت کریں۔ بی ٹی اقسام کا انتخاب علاقے کی موزونیت، مقامی معلومات اور پچھلے سالوں کے تجربات کی روشنی میں کریں۔
بی ٹی اقسام کے ساتھ کم از کم10فیصدرقبہ نان بی ٹی اقسام کا بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا نہ ہو سکے۔
شرح بیج 6تا10کلوگرام فی ایکڑ اگاؤ کے مطابق استعمال کریں۔بوائی سے پہلے بیج کو مناسب کیڑے مار زہر لگانا بہت ضروری ہے۔ جس سے فصل ابتداء میں تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی سے محفوظ رہتی ہے۔
لائنوں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد جبکہ بقیہ آبپاشیاں12تا15دن کے وقفہ سے کریں۔ آخری آبپاشی 10اکتوبرتک کریں۔پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 3تا4دن بعد، دوسرا،تیسرا اور چوتھا پانی 6تا9دن کے وقفے سے اوربقیہ پانی15دن کے وقفے سے لگائیں۔ آخری پانی 15اکتوبر تک لگائیں۔پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر ضرورپانی دیں۔چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں تاکہ فصل تندرست اور توانا ہو۔ چھدرائی کرتے وقت کمزور اور بیمار پودوں کو ضرور نکالیں۔اگیتی کاشتہ فصل (مارچ) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 12تا15انچ ، درمیانی کاشت (اپریل) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9تا 12انچ جبکہ پچھیتی کاشت (یکم مئی تا 15مئی) میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ رکھیں اور کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں۔ تاکہ فی ایکڑ پودوں کی تعداد مناسب رہے۔
اگیتی کاشت کے لیے 161کلو گرام نائٹروجن، 46تا70کلوگرام فاسفورس اور 50کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔پچھیتی کاشت کے لیے 80کلوگرام نائٹروجن ، 35تا58کلوگرام فاسفورس اور 38کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس ، پوٹاش کی تمام مقدار بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اگر فارسفورسی کھادوں میں 200 کلو گرام گوبر کی کھاد ملالیں تو بہت اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اگیتی کاشت کے لیے 1/6حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت، 1/6حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن کھاد ایک پانی چھوڑ کر اگلے پانی پر ڈالتے جائیں۔ مئی میں کاشتہ فصل کے لیے 1/4حصہ نائٹروجن بوائی کے وقت ، 1/4حصہ بوائی کے 30تا35دن بعد، 1/4حصہ ڈوڈیاں بننے پر اور بقیہ 1/4حصہ ٹینڈے بننے پر استعمال کریں۔
روایتی اقسام:
محکمہ زراعت کی سفارش کردہ روایتی اقسام سی آئی ایم 496-، سی آئی ایم506-، سی آئی ایم 554-، نیاب 777-،سی آئی ایم 608-، ایم این ایچ786-، سی آر ایس ایم38-، السیمی ایچ151-،سی آئی ایم 573-، ایس ایل ایچ317-،بی ایچ 167-، نبجی 115-،ایف ایچ 942-، نیاب 852-، نیاب 846، نیاب کرن، نیاب 112-اورجی ایس 1- میں سے موزوں اقسام کا انتخاب کریں۔
کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں یکم اپریل سے31مئی تک کاشت مکمل کریں جبکہ ثانوی و دیگر علاقوں میں یکم اپریل سے15مئی تک کاشت مکمل کریں۔ کاشت پٹٹریوں پر کریں اور ہموار زمین پر قطاروں میں کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی کے بعد پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن میں مٹی چڑھا کر پٹڑیاں بنا دیں۔
چھدرائی پہلی آبپاشی سے پہلے مکمل کریں۔ مرکزی علاقہ جات میں پودے سے پودے کا فاصلہ 6سے 9انچ جبکہ ثانوی علاقہ جات علاقوں میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔
ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی کپاس سی آئی ایم 506- ، سی آئی ایم 554-، نیاب 112-، سی آئی ایم 608-اور جی ایس 1-کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا40دن بعد جبکہ بقیہ اقسام کو40تا50دن بعداوراس کے بعد ہر آبپاشی 12تا15دن کے وقفہ سے کریں ۔ آخری آبپاشی 30ستمبر تک مکمل کرلیں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں پہلی آبپاشی 3تا4دن بعد اور پھر ہر 7تا10 دن بعدآبپاشی کریں ۔ آخری آبپاشی 15اکتوبر تک مکمل کریں۔
مرکزی علاقہ جات میں کپاس کو 58تا69کلوگرام نائٹروجن ، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرام پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں جبکہ ثانوی علاقوں میں کپاس کو46تا 58کلوگرام نائٹروجن، 35کلوگرام فاسفورس اور 25کلوگرا م پوٹاش فی ایکڑ ڈالیں۔فاسفورس او رپوٹاش والی کھادوں کی تمام مقدار اور نائٹروجن کی مقدار کا 1/3حصہ بوائی کے وقت استعمال کریں۔ 1/3حصہ نائٹروجن پہلے پانی کے ساتھ (ڈوڈیاں بننے پر) اور باقی ماندہ نائٹروجن دوسرے پانی کے ساتھ(پھول شروع ہونے پر) استعمال کریں۔

چنے
90 فیصد ٹاڈ پکنے پر برداشت کریں۔ برداشت کے لیے صبح کا وقت نہایت موزوں ہے۔ پکی ہوئی فصل کی برداشت میں تاخیر سے ٹاڈ جھڑنے کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا احتمال ہوتا ہے۔
بہاریہ مکئی
فصل کو حسب ضرورت مناسب وقفے سے آبپاشی کریں۔ بور آنے پر کسی صورت میں پانی کی کمی نہ آنے پائے۔ بور آنے پر کھیت کو ہمیشہ تر وتر حالت میں رکھیں تاکہ دانہ بننے میں مدد ملے لیکن پانی کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔
گوڈی کریں آخری گوڈی کرتے وقت پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا دیں۔
مکئی کے گڑوواں اور کونپل کی مکھی کے تدارک کے لیے مناسب دانہ دار زہروں کا استعمال محکمہ زراعت توسیع کے مقامی عملہ کے مشورہ سے کریں۔
مونگ پھلی
مونگ پھلی کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری جاری رکھیں۔ مونگ پھلی کی کاشت کے لیے اچھے نکاس والی قدرے ریتلی میرا زمین موزوں ہے۔
زمین کی تیاری کے وقت گہرا ہل چلائیں تاکہ اوپر والی مٹی مکمل طور پر نیچے چلی جائے اور جڑی بوٹیاں بھی تلف ہو جائیں۔ بارانی علاقوں میں مونگ پھلی کی کاشت دبائے ہوئے وتر میں مارچ تا اپریل میں کرنی چاہیے۔
زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے سفارش کردہ ترقی دادہ اقسام باری 2000،بارڈ479، گولڈن اور باری2011ء کاشت کریں۔
شرح بیج 70 کلو گرام پھلیاں یا 40 کلو گرام گریاں فی ایکڑ (5 کلو گرام گریاں فی کنال) ڈالیں تاکہ پودوں کی مطلوبہ تعداد 50 تا 60 ہزار فی ایکڑ حاصل ہو سکے۔
مونگ پھلی کے لیے موزوں ترین وقت کاشت مارچ کے آخری ہفتہ سے لے کر اپریل کے آخر تک ہے مونگ پھلی کے بیج کو اگاؤ کے لیے 25 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت درکار ہوتا ہے لیکن وتر کی کمی کے پیش نظر اسے 25 مارچ سے 31 مئی تک کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔
مونگ پھلی کی کاشت ہمیشہ بذریعہ پور یا ڈرل قطاروں میں کی جائے۔ بیج کی گہرائی 5 تا 7 سینٹی میٹر ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 تا 20 سینٹی میٹر رکھیں۔ مونگ پھلی کو بذریعہ چھٹہ ہرگز کاشت نہ کریں۔
پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے مونگ پھلی اپنی ضرورت کی 80 فیصد نائٹروجن فضا سے حاصل کر لینے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم نشوونما کے لیے کاشت کے وقت سوا بوری ڈی اے پی +چھ کلو گرام یوریا228 189 بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ضرور ڈالیں۔
کماد
مارچ اور اپریل کے مہینوں میں 2تا3پانی 20تا30دن کے وقفہ سے لگائیں۔
فصل کو گوڈی کریں نائٹروجن کھاد کی دوسری قسط ڈالیں اور کھاد ڈالنے کے بعد آبپاشی کریں۔
ستمبرکاشت کے لیے نائٹروجنی کھاد کی دو اقساط بالترتیب مارچ کے آخر اوراپریل میں مٹی چڑھاتے وقت ڈالیں اور بہاریہ کاشت کی صورت میں نائٹروجنی کھاد کی پہلی قسط اپریل میں ڈالیں۔
سبزیات
بھنڈی توری، ٹینڈا، ہلدی اورکریلا کی کاشت جاری رکھیں۔
کاشت کی گئی سبزیوں کو مناسب وقفے سے آبپاشی کریں بعد ازاں وتر آنے پر گوڈی جاری رکھیں۔
کچن گارڈننگ
چھوٹی کیاریوں میں حسب ضرورت صبح یا شام کے وقت فوارے کی مدد سے پانی دیتے رہیں کھلا پانی ہر گز نہ لگائیں۔
نرسری کے ذریعہ لگائی جانے والی سبزیات جالی یا ململ کی چھوٹی ٹنل بنا کر کاشت کریں تاکہ ننھے منھے پودوں کو پرندوں ، کیڑوں مکوڑوں اور بیماریوں سے محفوط رکھا جا سکے ۔
جڑی بوٹیاں فصل کی خوراک ، پانی اور روشنی میں حصہ دار بننے کے ساتھ ساتھ بیماریوں اور کیڑوں کو پھیلانے میں مددگاربنتی ہیں ۔ لہٰذا ان کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔ جڑی بوٹیوں کو گوڈی کر کے ختم کیا جا سکتا ہے۔
باغات
ترشاوہ پھل
پودوں کے کچے گلے اور غیر معمولی بڑھوتری والی شاخیں کاٹیں ویلنشیا لیٹ کی برداشت اور پیوند کاری کا عمل مکمل کریں۔ جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔
نائٹروجنی کھاد کی دوسری قسط ڈالیں اور عناصر صغیرہ کا ضرورت کے مطابق سپرے کریں۔
15 دن کے وقفہ سے آبپاشی کریں پھل سیٹ ہونے کے بعد پانی ضرور دیں۔
کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف سپرے کریں۔ تنوں پر بورڈ و پیسٹ کریں۔ جنسی پھندے لگانے کا عمل جاری رکھیں۔
آم
جڑی بوٹی مار زہروں سے جڑی بوٹیوں کا تدارک کریں۔ بٹور کی کٹائی جاری رکھیں۔
نائٹروجنی کھاد (یوریا) بطور دوسری خوارک 1 کلو گرام فی پودا ڈالیں۔ پتوں پر چھوٹے غذائی اجزاء سپرے کریں۔
آم کے باغات میں آبپاشی کا وقفہ 20 دن کا رکھیں۔
اپریل کے آخر تک زیادہ تر کیڑے اور بیماریاں نقصان دہ حد سے نیچے آ جاتی ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر جائزہ اور سپرے جاری رکھیں۔ منہ سڑی کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کریں تنوں پر بورڈ و پیسٹ لگائیں۔
پھل کی مکھی کے خلاف پھندوں کاانتظام کریں۔